پاکستانی معیشت کیلئے 2025 کو حکومت استحکام کا سال قرار دیتی ہے۔ زرمبادلہ ذخائر اور ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ عالمی ریٹنگ میں تو بہتری آئی لیکن غربت اور بے روزگاری کے لحاظ سے یہ سال بھی عوام کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہ لا سکا۔ خوراک،ادویات اور یوٹیلٹی بلز نے متوسط اورغریب طبقے کو شدید مشکل میں ڈالے رکھا، ماہرین کے مطابق مہنگائی میں کمی ضرور ہوئی لیکن قوت خرید میں بہتری نہیں لائی جا سکی۔
سال 2025 کے دوران بیرونی قرضوں کی صورت حال میں بہتری آئی تو عالمی کریڈٹ ایجنیسوں نے ریٹنگ بھی اپ گریڈ کی۔ پی آئی اے کی نجکاری کیلئے کامیاب بولی کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا۔
وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کا کہنا ہے کہ پچھلے سال تینوں ریٹنگز ایجنسیز نے ہماری ریٹنگ پازیٹو ہی نہیں،اپ گریڈ بھی کی، ایف بی ار کے اندر ریفارمز علیحدہ ٹیکس کلیکشن پچھلے سال 26 فیصد گروتھ ایجنڈا ہے چاہے اس میں پاور سیکٹر آف فارمز ہیں پرائیویٹائزیشن کا ایجنڈا ہے ٹیرفارمز ہیں دیگر پرفارمز ہیں وہ سب ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
حکومت کے دعوے اپنی جگہ لیکن بڑا سوال یہ رہا ، کیا اس استحکام کا فائدہ عام آدمی تک پہنچا؟ اقتصادی ماہرین کے مطابق مہنگائی، غربت اور بے روزگاری نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ خوراک، ادویات اور یوٹیلٹی بلز نے متوسط اورغریب طبقے کی کمر توڑ دی۔ برآمدات جمود کا شکار رہیں جبکہ شرح سود بلند سطح پر رہنے سے کاروباری طبقہ دباؤمیں رہا۔ مہنگائی بڑھنے کی رفتار کم ضرور ہوئی لیکن عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہ مل سکا۔
ماہر اقتصادی امور ڈاکٹر ساجد امین کا کہنا ہے کہ ہمارا جو اکنامک گروتھ ریٹ ہے وہ بہت سست ہے، ایک ایسا ملک جہاں پہ 2.5 پرسنٹ سے پاپولیشن گروتھ ریٹ ہو رہی ہو جس کا دو تہائی سے زیادہ جو ملک ہے 60 پرسنٹ سے زیادہ جو ہے تو ایسے ملک میں یہ بہت کم گروتھ ہے، اگر ہم 2025 کو ڈیفائن کر سکیں تو یہ ایک ٹیپیکل آئی ایم ایف پروگرام کا سال تھا اکنامک سٹیبلٹی جو ہے وہ ہمیں اچیو ہوئی ہے لیکن عام آدمی کا اس کے جو فائدے ہیں وہ نہیں پہنچ پائے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق سال 2025 میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی میں بہتری آنا شروع ہوگی ۔ بی آئی ایس پی کے تحت غریب طبقے کے تحفظ کیلئے اضافی فنڈز خرچ کئے گئے۔ زرمبادلہ ذخائر اور مالی نظم و ضبط میں بہتری آئی ہے جس سے آئندہ روزگار کے مواقع بڑھانے کی راہ ہموار ہوگی۔



















