پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان کل اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ مذاکرات ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے ریونیو شارٹ فال پر رپورٹ طلب کرلی۔ ایف بی آر مذاکرات میں آئی ایم ایف کو ٹیکس محاصل پر رپورٹ پیش کرے گا۔
ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس ریونیو میں 329 ارب روپےکی کمی آئی، آئی ایم ایف کو سیلزٹیکس، انکم ٹیکس سمیت محاصل میں کمی کی وجوہات بتائی جائیں گی۔ آئی ایم ایف ٹیم تیسرے اقتصادی جائزے کیلئے پاکستان کے دورے پر ہے۔
رواں مالی سال اصل ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، بعد میں ٹیکس ہدف میں 152 ارب کمی کرکے 13 ہزار 979 ارب کر دیا گیا۔ ایف بی آر موجودہ مالی سال کے پہلے8ماہ کا ٹیکس ہدف بھی حاصل نہ کرسکا۔
دستاویز کے مطابق جولائی تا فروری 429 ارب اور ماہ فروری میں 85 ارب کا شارٹ فال رہا، ماہ فروری کے 1029 ارب کے ہدف کے مقابلے 944 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا۔ جولائی تا فروری 8 ہزار 121 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا، جولائی تا فروری 8 ہزار 550 ارب روپے ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
ایف بی آر کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے 11 فیصد زیادہ ٹیکس جمع ہوا، انکم ٹیکس کی مد میں 4098 ارب ہدف کے مقابلے 3956 ارب روپے، سیلز ٹیکس 3028 ارب ہدف کے مقابلے 2783 ارب جمع ہوا، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 526 ارب ہدف سے زیادہ 532 ارب روپے، کسٹمز ڈیوٹی 898 ارب ہدف کے مقابلے 850 ارب اکٹھی ہوسکی۔
دستاویز کے مطابق 8 ماہ میں مقررہ ہدف کا 95 فیصد حاصل ہوسکا، ایف بی آر نے جولائی تا فروری 385 ارب سے زائد کے ریفنڈز جاری کئے۔ فروری کے مہینے کا بھی 1029 ارب روپے کا ٹیکس جمع نہ ہوسکا، فروری میں 944 ارب روپے ہی اکٹھے ہوسکے۔
فروری میں انکم ٹیکس کی مد میں 443 ارب روپے وصولی رہی، ماہانہ بنیاد پر 336 ارب سیلز ٹیکس، 67 ارب کی ایکسائز ڈیوٹی جمع کیا گیا، اس دوران کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 99 ارب جمع ہوسکے۔




















