امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جس دوران ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق 201 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 747 سے زائد زخمی ہیں۔ جبکہ حملوں میں ایران کے کئی سینئر فوجی افسران اور رہنماوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا جارہاہے لیکن ایران کی جانب سے ایسی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔
اسرائیل نے ایران کیخلاف اپنی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ کرنے کا دعویٰ کر دیاہے اور کہا کہ آپریشن میں 200 طیاروں نے حصہ لیا جس دوران 500 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے صدارتی آفس، آرمی چیف ، وزراء ، دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیاہے، اس کے علاوہ پارچین ملٹری کمپلیکس اور وزارت انٹیلی جنس کو بھی نشانہ بنایا گیا، تہران پر فضا اور سمندر سے میزائل داغے گئے ۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ کی کی رہائشگاہ کے قریب 7 میزائل گرے، ایرانی صدر اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای محفوظ رہے ، پینٹاگون نے ایران کیخلاف آپریشن کو ’ ایپک فیوری‘ کا نام دیاہے ۔
ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی
ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے کہاہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حملوں میں 201 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 747 سے زائد زخمی ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ترجمان نے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے 24 صوبوں پر حملے کیئے گئے جن میں 201 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ ریڈ کریسنٹ کی 220 ٹیمیں حملوں کا نشانہ بنے والے مقامات پر ریسکیو آپریشنز انجام دے رہی ہیں ۔
اسرائیل کا اپنی تاریخ کا بڑا فضائی آپریشن کرنے کا دعویٰ
اسرائیل ڈیفنس فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی تاریخ کی فضائی کارروائی انجام دی ہے ، جس کے دوران تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں میزائل اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق اس کارروائی میں سیکڑوں ہتھیار استعمال کیے گئے اور بیک وقت تقریباً 500 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچرز شامل تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی فضائیہ کو ایرانی فضائی حدود میں برتری حاصل ہوئی اور ایرانی نظام کی جارحانہ صلاحیتوں، خصوصاً مغربی ایران میں موجود میزائل لانچ سائٹس کو شدید نقصان پہنچا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک حملہ مغربی ایران کے شہر Tabriz میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل لانچنگ مقام پر بھی کیا گیا۔
ایران کی جوابی کارروائی
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اب تک اسرائیل کی جانب میزائلوں کی تین لہریں فائر کی جاچکی ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر تل ابیب سمیت اسرائیل کے کئی شہروں میں میزائل گرنے کی ویڈیوز شیئر کی جارہی ہیں تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے میزائلوں کو ہوا میں ہی ناکارہ بنا رہاہے ۔
ایران کی جانب سے قطر ، بحرین، ابو ظہبی ، کویت اور سعودی عرب میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر میزائل داغے گئے ہیں، ایران کے میزائل حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں فضائی آپریشن بند کر دیا گیاہے ، متحد ہ عرب امارت میں میزائل کا ملبہ لگنے سے ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران پر ایک نیا حملہ جاری ہے جس میں ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔
اسرائیل کے ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر کیئے گئے حملے میں 85 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر شدید بمباری کی گئی جس دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 85 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں ۔ حملے کے وقت سکول میں 170 سے زائد بچیاں موجود تھیں۔
ایران کے صوبے فارس میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 15 شہری شہید ہو گئے ہیں ، اسرائیلی حملے کے وقت جمنزیم کے پارک میں بچے کھیل رہے اور شہری ورزش میں مصروف تھے ۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایران کے شہر ابیک میں بھی اسکول پر اسرائیلی حملہ کر دیاہے، امام رضا اسکول میں متعدد طلبہ جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں،زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
الجزیرہ نے دعویٰ کیاہے کہ جسک میں بھی اسرائیلی حملے میں شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
رائٹرز کےمطابق ایرانی دارالحکومت تہران میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا،تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ میں متعدد میزائل گرے،سید خاندان،ایرانی بندرگاہ چابہار پر بھی میزائل گرے،مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تہران اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ معطل کردی گئی ہے،جبکہ پورے ملک میں موبائل سروس معطل ہوگئی،انٹرنیٹ کنیکشن کی رفتار بھی سست ہے،دھماکوں کی آواز سن کرلوگ افراتفری میں بھاگ رہےہیں،تعلیمی ادارے بند کردیے گئے، تمام کلاسز آن لائن منعقد ہونگی۔
رائٹرز کےمطابق اسرائیل کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر اور صدر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا،اسرائیلی حکام کے مطابق دونوں کے ٹھکانوں پر حملے ہوئے، نتائج سے لاعلم ہیں۔
خبرایجنسی کےمطابق ایران نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہاہے کہ وہ تہران میں موجود ہی نہیں ہیں ، علی خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا ہے، ایرانی حکام نےرائٹرز سےگفتگومیں کہاتہران میں کئی منسٹریزکی عمارتوں کو نشانہ بنایاگیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہےکہ ایران پر فضا اورسمندر سےحملے کیےجارہے ہیں،حملوں میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایاجارہا ہے،امریکی بیسز کے تحفظ کیلئے بحری بیڑے مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے تھے۔
اسرائیلی حکام کاکہنا ہےکہ ایران پراسرائیلی حملےکوامریکی معاونت حاصل ہے،حملے کا منصوبہ کئی ماہ پہلےمنایا گیا تھا،ایران پر حملے کی تاریخ ہفتوں پہلے طے کی گئی تھی،ایران کے خلاف کارروائی کئی دنوں پر محیط ہوسکتی ہے




















