فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بغیر جواز آمدن کم ظاہر کرنے پر قانونی کارروائی کا عندیہ دیدیا۔
ایف بی آر نے ایکسپورٹرز کے ٹیکس گوشواروں کی جانچ کی ہدایت کر دی، بڑے شہروں کے 10سے 30 بڑے ایکسپورٹرز کی نشاندہی کا حکم دیدیا۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے برآمد کنندگان فہرست میں شامل ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد ایکسپورٹرز نےقابل ٹیکس آمدن کم ظاہر کی ہے، اسکروٹنی کا فیصلہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 154 میں ترمیم کے بعد کیا گیا، فنانس ایکٹ کے تحت برآمدی آمدن پر فائنل ٹیکس کے بجائے کم ازکم ٹیکس نافذ ہے۔
بڑے برآمدکنندگان کی قابل ٹیکس آمدن میں اچانک کمی پر ایف بی آر نے اظہار تشویش کیا ہے، فیلڈ فارمیشنز کو برآمدکنندگان کے گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کردی گئی، یکم جنوری 2026 تک مشکوک ایکسپورٹرز کی تفصیلات ایف بی آر کو جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔
دوسری جانب پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے وزیر اعظم کو خط لکھ دیا ۔ خط کی کاپی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔ برآمدکنندگان کی جانچ پڑتال پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی نئی ہدایات سے برآمدی شعبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد ایکسپورٹرز کی اضافی اسکروٹنی کاروباری اعتماد کیلئے خطرہ ہے۔ برآمدکنندگان کو ہراساں کرنے کے بجائے سہولت فراہم کی جائے۔ ریٹیل بزنس کونسل نے وزیراعظم سے فوری مداخلت اور واضح پالیسی گائیڈ لائنز کا مطالبہ کیا ہے۔



















