پاکستان نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اورخطے میں استحکام کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حالیہ سفارتی کوششوں کی حمایت کر دی ہے۔
پاکستان کےدفترخارجہ کی جانب سےجاری ہونے والےایک بیان میں کہا گیا ہےکہ پاکستان یمن کی بدلتی ہوئی صورتحال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہے،ہم اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔
دفترخارجہ نےمزیدکہا کہ ’ہم یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ یمن کے تمام فریق ایسے کسی بھی یکطرفہ قدم سے گریز کریں گے جو صورتحال کو مزید بگاڑنے کا باعث بنے۔‘
’ہم یمن کےتمام گروہوں پرزوردیتے ہیں کہ وہ طےشدہ پیرامیٹرزکی بنیاد پرایک جامع،مذاکراتی اورسیاسی حل کے لیےخلوصِ نیت کے ساتھ تعمیری بات چیت کا حصہ بنیں۔‘
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد کےترجمان جنرل ترکی المالکی کی علیحدگی پسندوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہےکہ قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ایکشن لینے پرمجبور ہونگے،
غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق علیحدگی پسند گروپ ایس ٹی سی نےچند دن پہلےصوبہ حضرموت پر قبضہ کیا تھا،ایس ٹی سی کے جنگجوؤں نےبین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کو عدن شہر سے بے دخل کیا،ایس ٹی سی نے اپنی فورسز واپس بلانےکی سعودی اپیل بھی مسترد کردی۔






















