پنجاب میں جنگلات اورماحولیات کے تمام نظام کوکرپشن فری بنانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا اقدم سامنے آیا ہے،انگریزدور کے بنائے فاریسٹ ایکٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔
ماحول کےتحفظ کا ادارہ(ای پی اے) سے'کاغذی کارروائی' کاسو فیصد خاتمہ ہوگیا،جدید ٹیکنالوجی سے لیس جدیدنظام کے ذریعے تمام نظام چلانے والا 'ای پی اے'پہلا سرکاری محکمہ بن گیا ہے۔
ماحولیات سےمتعلق تمام محکمے جدید ڈیجیٹل نظام کےبغیرحکم جاری کریں گےنہ کوئی منظوری دیں گے ،ڈیجیٹل نظام "ای فوس" کےسوا حکم جاری کرنے،منظوری دینے یاکوئی انتظامی فیصلہ جاری کرنے والے محکمے کے افسر اور عملے کے خلاف سخت تادیبی کاروائی ہوگی،ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا۔
پنجاب حکومت کےنوٹیفیکیشن کےمطابق ہردستاویز پرمخصوص حوالہ نمبر اور'کیو آرکوڈ'ہوگا،سیکنڈز میں تصدیق کرنا ممکن ہوگا،ہرفیصلے کی پڑتال ہو سکےگی،فیصلوں کی وجوہات،سفارشات، منظوری سمیت ہرچیزکا ڈیجیٹل ریکارڈ کمی وقت دستیاب ہوگا،امپورٹ لائسنس کا اجرا بھی مکمل طور پر e-FOAS ڈیجیٹل نظام سے ہی ہوگا۔لیبارٹری سرٹیفکیشن، پروٹیکشن آرڈرز اور سرکاری سفارشات کا اجرا صرف (e-FOAS) کےذریعے ہوگا،ڈیجیٹل نظام سےہٹ کر جاری ہونے والا کوئی حکم، تصدیق یامنظوری قانونی اور درست نہیں ہوگی۔
وزیراعلی مریم نواز نےتمام ٹیم کوشاباش دیتےہوئےکہا انسانی مداخلت کاخاتمہ جعلسازی اور غیرقانونی اجازت ناموں کا خاتمہ ہے،ماحول کے تحفظ کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔






















