ماہرین کے مطابق کامیاب بچوں کی پرورش کا راز گھر میں اپنائی جانے والی چھوٹی مگر مستقل عادات میں پوشیدہ ہے۔ والدین اگر بچپن سے بچوں میں ذمہ داری ڈالیں، کوشش کی حوصلہ افزائی کریں، ناکامی سے سیکھنے دیں، کھلی بات چیت کو اہمیت دیں، اور خود مثبت کردار پیش کریں تو یہی عادتیں بچوں کی پوری زندگی کی کامیابی کی بنیاد بن جاتی ہیں۔
آج کامیابی کا مفہوم صرف نمبروں، ذہانت یا غیر معمولی صلاحیتوں تک محدود نہیں رہا۔ جذباتی ذہانت، تخلیقی سوچ، نظم و ضبط اور مشکلات میں ڈٹے رہنا بھی اتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق کامیاب بچوں کو آگے بڑھانے والا نہ پیسہ ہے، نہ مہنگے اسکول، نہ جینیاتی خصوصیات بلکہ والدین کے وہ روزمرہ کے رویے ہیں جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں اپناتے ہیں۔
یہاں وہ پانچ عادتیں بیان کی گئی ہیں جو کامیاب بچوں کے والدین کو دوسروں سے ۔مختلف بناتی ہیں۔
وہ بچوں کو جلد ذمہ داری دیتے ہیں نہ کہ کامل بننے کا دباؤ
کامیاب بچے وہ ہوتے ہیں جو ابتدا سے ہی ذمہ داری سیکھتے ہیں، نہ کہ ہر کام پرفیکٹ کرنے کا دباؤ۔
ایسے والدین اپنے بچوں کو چھوٹے چھوٹے کام دیتے ہیں
کھلونے سمیٹنا، اسکول بیگ تیار کرنا، پودوں کو پانی دینا۔
یہ کام بچوں میں اونرشپ اور ذمہ داری پیدا کرتے ہیں
جو پرفیکشن سے کہیں زیادہ قیمتی مہارتیں ہیں۔
جو بچہ خود کو قابل محسوس کر کے بڑا ہوتا ہے، وہ نہ مشکلات سے بھاگتا ہے، نہ غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈالتا ہے۔
وہ کوشش کو سراہتے ہیں موازنہ نہیں کرتے
ایسے والدین جانتے ہیں کہ بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا اُن کا اعتماد تباہ کر دیتا ہے۔
اس کے بجائے وہ کوشش کی تعریف کرتے ہیں
چاہے بچہ کوئی ساز سیکھ رہا ہو، ہوم ورک وقت پر مکمل کر رہا ہو، یا کوئی نیا کھیل آزما رہا ہو۔
کوشش کی حوصلہ افزائی بچوں میں گروتھ مائنڈسیٹ پیدا کرتی ہے۔
جس کا تعلق بلند کارکردگی اور کامیابی سے ثابت شدہ ہے۔
ایسے بچے سمجھتے ہیں کہ
مہارتیں محنت سے بہتر ہوتی ہیں
غلطیاں سیکھنے کا حصہ ہیں
ترقی اصل کامیابی ہے، نہ کہ "قدرتی ٹیلنٹ"
وہ بچوں کو ناکامی سے گزرنے دیتے ہیں کیونکہ یہی لچک پیدا کرتی ہے
کامیاب بچوں کے والدین بچوں کو ناکامی سے بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔
وہ جانتے ہیں کہ ناکامی بچے کو مسئلے حل کرنے کی عادت دیتی ہے، اسے ذہنی طور پر مضبوط بناتی ہے۔
وہ بچوں کو ناکام ہونے دیتے ہیں، مگر ساتھ کھڑے رہ کر رہنمائی کرتے ہیں۔
یوں بچہ
صبر
حوصلہ
اور مستقل مزاجی
سیکھتا ہے جو کسی بھی بڑی کامیابی کا بنیادی حصہ ہیں۔
ایسے بچے بڑے ہو کر رسک لینے سے نہیں گھبراتے اور نئے تجربات کے لیے تیار رہتے ہیں۔
وہ بات چیت اور جذباتی تعلق کو ترجیح دیتے ہیں
کامیاب بچوں کے والدین مصروفیات کے باوجود بچوں سے معنی خیز گفتگو کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
وہ بغیر جج کیے سنتے ہیں
بچوں کے سوالات کو اہمیت دیتے ہیں
ان کے جذبات کو تسلیم کرتے ہیں
یہ جذباتی تحفظ بچوں میں اعتماد اور مضبوط شخصیت پیدا کرتا ہے۔
ایسے بچے زندگی کے مشکل لمحات سنبھالنے، اپنے جذبات سمجھنے، اور دوسروں سے اچھا تعلق قائم کرنے میں بہتر ہوتے ہیں۔
یہی صفات آگے چل کر اُنہیں لیڈر شپ، ٹیم ورک اور مضبوط رشتوں میں مدد دیتی ہیں۔
وہ نظم و ضبط، جستجو اور مہربانی کا نمونہ خود بنتے ہیں
بچے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیں ۔
وہ وہی کرتے ہیں جو والدین عمل میں دکھاتے ہیں۔
کامیاب بچوں کے والدین وہی عادات خود اپناتے ہیں جو وہ بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، جیسے
مطالعہ کرنا
وقت کا انتظام
دوسروں کا احترام
نئی چیزیں سیکھنا
منظم رہنا
مہربانی دکھانا
جب بچے یہ سب گھر میں دیکھتے ہیں تو رفتہ رفتہ یہی عادتیں اُن کی اپنی فطرت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
یوں وہ خود بخود
ڈسپلنڈ
ہمدرد
اور سیکھنے کے شوقین
ہو جاتے ہیں۔
نتیجہ
کامیاب بچوں کی پرورش کسی جادو یا قسمت کا نتیجہ نہیں۔
یہ والدین کی روزمرہ تربیت، رویوں اور ماحول کا اثر ہے۔
اگر والدین ان پانچ عادتوں کو مستقل طور پر اپنائیں تو وہ نہ صرف بچوں کو کامیاب بناتے ہیں بلکہ انہیں ایک مضبوط، پراعتماد اور خوشگوار انسان بناتے ہیں۔






















