وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ برآمدات کو معیشت کا مرکزی محرک بنائے بغیر پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔
وفاقی وزیرترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نےاسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سےخطاب کرتے کہاکہ ملکی ترقی کے لیے کم ازکم 90 فیصد شرح خواندگی ناگزیر ہے،جبکہ برآمدات کو معیشت کا مرکزی محرک بنائے بغیر پاکستان میں مستقل اور پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔
انہوں نےکہا کہ داخلی طلب پرانحصار کرتےہوئے زیادہ سےزیادہ 6 فیصد جی ڈی پی حاصل کی جا سکتی ہے، تاہم یہ دیرپا حل نہیں۔ ان کےمطابق ڈالرکی قلت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔
احسن اقبال نےانکشاف کیاکہ ملک میں 523 لسٹڈ کمپنیوں میں سےصرف 70 ایسی ہیں جن کی برآمدات 10 ہزار ڈالرسےتجاوز کرتی ہیں، جو برآمدی صلاحیت کے محدود ہونےکا واضح ثبوت ہے،برآمدات کو قومی سلامتی اور خودمختاری کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دینا ہوگا۔
وفاقی وزیر نےکہا کہ پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے،تاہم بدقسمتی سے ہم اپنی مصنوعات کی مؤثر برانڈنگ اور معیاری پیکجنگ نہیں کر پاتے جس کے باعث عالمی منڈی میں بہتر مقام حاصل نہیں ہو رہا۔
انہوں نےمزیدکہا کہ مقامی مارکیٹ کے تحفظ کی پالیسیوں کے باعث کمپنیاں عالمی منڈی میں مسابقت پر توجہ نہیں دیتیں،برآمدات میں اضافہ کے لیےمارکیٹ انٹیلی جنس، برانڈنگ اورمصنوعات کی مؤثر پروموشن ناگزیر ہے۔





















