امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کو پھانسی دینے کی صورت میں ایران کو سخت کارروائی سے خبردار کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران کہا کہ انہیں مظاہرین کو پھانسی کے بارے میں کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی لیکن انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایران میں گرفتار مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکا بہت سخت کارروائی کرے گا۔
مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتےکہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جاری رہے،لیکن جب ہزاروں لوگوں کو قتل کیاجائے،اورپھانسی کی بات ہوتو پھران سب کا نتیجہ ایران کے لیےبالکل اچھا نہیں ہوگا،صدر ٹرمپ نے قتل عام بند ہونے تک ایرانی حکام سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کردیا۔
اس سےقبل امریکی صدر نے ایران میں حکومت کےخلاف پُرتشددمظاہرے کرنے والوں کو بغاوت پر اُکساتے ہوئےکہاکہ ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں،امریکی مدد جلد پہنچنے والی ہے،گزشتہ روز امریکا نے اپنےشہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔
غیرملکی خبررساں ادارے رائٹرز کےمطابق ایران کے ایک عہدیدا ر نےدعویٰ کیاہےکہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایرانی عہدیدارکےمطابق ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین اورسیکیورٹی اہلکاردونوں شامل ہیں،تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی تفصیلی تقسیم فراہم نہیں کی۔ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ جن عناصر کو انہوں نے "دہشت گرد" قرار دیا، وہی مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔
ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر اب تک ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کوئی اعدادو شمار جاری نہیں کیئے گئے ہیں۔






















