سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2سے 3 سال پہلے ہم ڈیفالٹ کے دہانے پر آگئے تھے، میرے دور میں آئی ایم ایف سے بات ہوئی، نگران حکومت میں ڈالر کی قیمت کم ہوئی، حکومت 2 سال سے کہہ رہی ہے استحکام حاصل کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکشن درست ہوتی تو بے روزگاری نہ بڑھ رہی ہوتی، جس چابی سے تالا کھول رہے ہیں یہ غلط ہے، ہمیں چابی بدلنا ہو گی،اصلاحات کرنا ہوں گی، آج بنگلادیش ہم سے آگے نکل گیا،ہم پیچھے جا رہے ہیں، شخصیات،جماعتیں بدلنے سے ہم آگے نہیں جا سکیں گے، یہ آئی ایم ایف پروگرام آخری نہیں ہو گا۔
ان کا کہناتھا کہ ایک سال بعد پھر ان کے پاس جانا ہو گا، ہم برآمدات نہیں بڑھا سکے، پاکستان میں خطے کے مقابلے سب سےمہنگی بجلی،گیس اور ٹیکسز ہیں، 43ارب روپے ایم این ایز کو دیئے گئے ہیں، ہر ایم این اے کو25،25کروڑ روپے دیئےگئے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 43ارب روپے بچاتے تو نوکری پیشہ افراد کا ٹیکس کم کر سکتے تھے، وفاق اور صوبے اخراجات کم نہیں کرتے توآگےنہیں بڑھ سکتے، آئی ایم ایف 2 سال سے زراعت پر ٹیکس لگانے کا کہہ رہا ہے،نہیں لگا سکے، آئی ایم ایف اخراجات کم کرنے کا کہہ رہا ہے،وہ بھی کم نہیں کر سکے۔
سینیٹر عابد شیر علی
سینیٹر عابدشیرعلی نے کہا کہ نواز شریف نے حکومت لینے سے پہلے مفتاح اسماعیل سے پوچھا تھا، مفتاح اسماعیل سے پوچھا تھا ڈالر اور پیٹرول کی قیمت روک لیں گے؟ مفتاح اسماعیل نے بہت بڑھکیں ماری تھیں، مفتاح اسماعیل نے بیڑہ غرق کیا،اس لیے ہٹایا گیا، مفتاح اسماعیل بطور وزیر خزانہ کیا کرتے رہے؟ آئی ایم ایف پروگرام میں مفتاح اسماعیل کا کیا کردار ہے، مفتاح اسماعیل جس وقت حکومت میں تھےاس وقت یہ باتیں کرتے۔
ان کا کہناتھا کہ آج لوگ سکون کی نیند سو رہے ہیں، انصاف ہوتا نظرآرہا ہے، کے پی میں 14 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے،اصلاحات لائیں، اصلاحات یہ نہیں کہ جتھہ لے کراڈیالہ جیل آجائیں، خیبرپختونخوا حکومت لوگوں کو تحفظ دے، صوبے میں امن قائم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔






















