پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملکی ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی شرط عائد کردی۔
پاکستان میں میعاری تیل صاف کرنے کیلئے ریفائنریز اپ گریڈیشن کےلیے آئی ایم ایف نے درآمدری مشینری پر ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق کاسٹ ریکوری کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد ٹیکس کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے پٹرولیم مصنوعات پر مزید2 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد کرنے کا ایم ایف کا مطالبہ مان لیا جائے تو پیٹرول کی قیمت میں 18 فیصد ٹیکس سے ساڑھے 47 روپے اور ڈیزل کے نرخ میں 50 روپے فی لیٹر سے زائد اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے 72 فیصد انویسٹمنٹ ریٹرن کیلئے سیلز ٹیکس کی شرط عائد کی ہے۔ حکومت کاکہنا ہے اس وقت پاکستان میں کوئی بھی ریفائنری یوروفائیو تیل صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ صرف یورو ٹو اور یورو تھری کیٹگری کا پٹرول اور ڈیزل ریفائن کیا جا رہا ہے۔ ریفائنریز اپ گریڈیشن کیلئے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ جس کیلئے حکومت نے آئی ایم ایف سے رمطلوبہ مشینری، ٹیکس فری کامطالبہ بھی کررکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والے غیر معیاری ڈیزل میں سلفر استعمال ہوتا ہے، جو ماحول اور صحت کے لیے مضر ہے۔ مقامی ریفائنریز میں معیاری تیل صاف کرنے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے 70 فیصد پیٹرول 30 فیصد ڈیزل درامد کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان یومیہ لگ بھگ 20 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول اور 18ہزار میٹرک ٹن ڈیزل درآمد کرتا ہے۔ جس پر زر مبادلہ کے علاوہ ٹیکسز کے نفاذ سے پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔






















