پاکستان میں معیاری تیل صاف کرنے کیلئے ریفائنریز اپگریڈیشن منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیاہے ، آئی ایم ایف نے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ کی اجازت دینے سے انکار کر دیاہے ، آئی ایم ایف کا 18 فیصد ٹیکس کا مطالبہ مانا گیا تو پیٹرول 47 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق آئی ایم ایف نے کاسٹ ریکوری کیلئے 18 فیصد پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرط عائد کی ہے ، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر2 فیصد تک سیلز ٹیکس کے نفاذ کی بھی تجویز دی، آئی ایم ایف نے ابھی تک حکومت کی یہ تجویز منظور نہیں کی، اگر آئی ایم ایف کا مطالبہ مانا گیا تو 18 فیصد ٹیکس سے پیٹرول 47 روپے مہنگا ہوگا، ڈیزل پر سیل ٹیکس کے نفاذ سے قیمت 50 روپے فی لیٹر بڑھانا پڑے گی۔
حکومت نے ریفائنریز اپگریڈیشن کیلئے مشینری پر ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ کر رکھا ہے، اس وقت پاکستان میں کوئی بھی ریفائنری یورو 5 تیل صاف نہیں کر رہی ، مقامی ریفائنریز یورو 2 اور یورو 3کیٹگری کے پیٹرول اور ڈیزل ریفائن کر سکتی ہیں ، ریفائنریز اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت ریفائنریز کو 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔






















