اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے سی ایس ایس امتحانات میں لاہور سنٹر میں طلباء کو امتحان میں شرکت نہ کرنے کے خلاف کیس میں دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق وکیل منیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ لاہور سنٹر میں سینکڑوں طلباء کو امتحان سے محروم کر دیا گیا ،ریاست ماں جیسی ہوتی ہے یہ نہیں ہوتا کہ ریاست پریس ریلیز میں کہے کہ انکے خلاف ایکشن لینگے ۔
عدالت نے وکیل ریاست آزاد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ، کیوں ریاست صاحب آپ بتا دیں، ریاست علی نے جواب دیا کہ میں تو کہتا ہوں ریاست باپ جیسی ہوتی ہے۔ ریاست علی آزاد کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ طلبا کو پہلے بتایا گیا تھا کہ پچاس منٹ پہلے آئیں یہ نہیں آئے تو ان کی غلطی ہے، ان کا یہاں ہائیکورٹ ڈائریکٹ آنے کا فورم نہیں تھا پہلے دو فورم موجود ہیں ۔
جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ دیگر فورم پر جا کر پھر عدالت آتے تو ان کا وقت ضائع ہو جاتا ، یہ تو سارے بچے ہیں ان کو ریلیف دیں آپ کو دل بڑا کرنا چاہیے ، سرکار و ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ، طلباء کا خیال رکھنا چاہیے ، بچوں کو آپ تعلیم دیں ، سہولت دیں ۔
وکیل منیر احمد نے کہا کہ لاہور سنٹر میں چار ہزار طلباء نے شرکت کرنا تھی ، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی پریس ریلیز میں لکھا گیا کہ امتحان سے پچاس منٹ پہلے پہنچیں ، پچاس منٹ پہلے گیٹ بند کردیا گیا طلبا کا لائف ٹائم چانس مس ہوگیا ، کیا پیپر شروع ہونے سے قبل گیٹ بند کر سکتے ہیں ۔
عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ہدایت کہ آپ پرانی ججمنٹس جمع کروائیں تاکہ ان کو ہم دیکھ سکیں ۔






















