کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال بلاک ون میں تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات کا معمہ حل ہوگیا۔ گھر کے سربراہ اقبال اور اس کے بیٹے یاسین نے تینوں خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔
پولیس کے مطابق دونوں باپ بیٹا بھاری قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور اسی دباؤ کے باعث ہولناک منصوبہ تیار کیا۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے بتایا کہ پہلے ایک خاتون کو نیند کی گولیاں دے کر مارا، پھر دوسری کو زہر ملا جوس پلایا، اور بعد میں تیسری خاتون کو بھی اسی طرح قتل کردیا۔
منصوبے کے مطابق قتل کے بعد باپ بیٹا خود بھی زہر پی کر جان دینے والے تھے، مگر یاسین کی حالت بگڑنے پر اقبال کی ہمت جواب دے گئی۔پولیس نے اقبال کی جیب سے دو خط بھی برآمد کیے۔ ایک میں جنازے اور تدفین سے متعلق ہدایات درج تھیں، جبکہ دوسرے میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق وصیت لکھی گئی تھی۔
حکام کے مطابق گھرانہ شدید مالی بحران کا شکار تھا۔ ان پر ایک کروڑ روپے سے زائد کا قرض تھا، جبکہ 75 لاکھ کی عدم ادائیگی پر شکایت بھی درج تھی۔ کرائے کے گھر میں رہنے والا یہ خاندان مالی مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ یاسین پراپرٹی ایجنٹ کے طور پر کام کرتا تھا جبکہ گھر میں موجود گاڑی بینک لیز پر تھی۔
پولیس نے اقبال اور یاسین کو گرفتار کرکے حراست میں لے لیا ہے۔ دونوں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔






















