ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہےباررڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
25 نومبرکو ڈی جی آئی ایس پی آر نےسینئرصحافیوں سےملکی سلامتی کے امور پرتفصیلاً گفتگو میں کہا کہ طالبان رجیم کا مہمان ہونےکا دعویٰ غیرمنطقی ہے،کیسے مہمان ہیں،جو مسلح ہوکرآتے ہیں،فتنہ الخوارج اگر پاکستانی ہیں توہمارےحوالےکریں،ان کو قانون کےمطابق ڈیل کریں گے۔
ترجمان پاک فوج نےکہا افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورےخطے اوردنیا کیلئےخطرہ بن چکا، افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے،اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کے وعدے پراب تک عمل نہیں ہوا،خونریزی اور تجارت اکٹھےنہیں چل سکتے،دونوں ممالک کےدرمیان تجارت کی بندش کا مسئلہ سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آرکا مزید کہنا ہے کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری ہے،انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کےدوران ایک ٹریلردکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے،جس ٹریلرمیں سات جہازگرجائیں, 26 مقامات پرحملہ ہوجائے اور ایس- 400کی بیٹریاں تباہ ہوجائیں،تو ایسےٹریلرپرمبنی فلم ان کیلئےہارر فلم بن جائے گی،سندورمیں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نےکہا ریاست پاکستان اوراس کے اداروں کےخلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے ایکس اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں، پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنےکی کوشش کی جاتی ہے،بیرون ملک سے آپریٹ ہونےوالے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں،یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کےپیچھے بیرونی ہاتھ ہیں۔
ترجمان پاک فوج نےکہا4 نومبر 2025 سےابتک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیاگیا، رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے،رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اورصوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئےگئے،رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔





















