لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نومئی کاایک ہی مقدمہ چلانے کی درخواست بحال کردی۔چیف جسٹس نے مرکزی درخواست پچیس نومبرکو مقررکرنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نےبانی پی ٹی آئی کی جانب سےدائرمتفرق درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی نےدرخواست بحالی کیلئےہائیکورٹ سےرجوع کیا،بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نےعدالت کےسامنےاعتراض اٹھایاکہ رجسٹرارآفس کوپتہ نہیں مجھ سےکیاضد ہےمیرا نام کازلسٹ میں نہیں آتا ہے۔
چیف جسٹس نےریمارکس دیئےآپ کو بھی پتہ نہیں عدالت کے ساتھ کیاضد ہے،عدالت کے متعلق جو پریس میں غلط خبریں دیتے ہیں،لطیف کھوسہ نےکہامیں نےتوکوئی غلط خبرنہیں دی۔چیف جسٹس نےکہا یہ جوآپ کے ساتھ وکیل انتظارپنجوتہ کھڑے ہیں ان سے پوچھیں۔
گزشتہ سماعت پرکیس کال کیا گیاکوئی وکیل موجود نہیں تھا ۔یہ روسٹرم جب جب خالی ہوتا ہےتب نظرآتا ہےہم چہرہ دیکھ کرکیس نہیں سنتے،جتنا ریلیف میری عدالت سے آپکو ملا شاید کسی عدالت سے ملاہو،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے ریمارکس دیئےابھی تک کوئی ایسا فلٹرنہیں آیا،جس سے کسی وکیل کا نام نکالا جا سکے، میری عدالت میں اتنے وکیل نہ آیا کریں ایک ہی کافی ہوتا ہے۔
گزشتہ سماعت پرعدالت نےعدم پیروی کی بنیادپردرخواست خارج کردی تھی،لاہورہائیکورٹ نے مرکزی درخواست بحالی کی متفرق درخواست منظورکرلی اورنو مئی کے ایک مقدمے کے تحت کارروائی کی درخواست پچیس نومبرکیلئےمقرر کرنے کی ہدایت کردی۔






















