پاکستان کے نوجوان محقق ڈاکٹر عثمان محمود نے ملائیشیا میں شاندار کامیابیاں سمیٹ کر نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے بلکہ ملک کا نام بھی بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا (UTM) کے 69ویں کونووکیشن میں ’’پرو چانسلر ایوارڈ‘‘حاصل کیا جو صرف غیرمعمولی تحقیقی قابلیت رکھنے والے پی ایچ ڈی اسکالرز کو دیا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر عثمان کی پی ایچ ڈی تحقیق نہ صرف معیار، گہرائی اور جدت کا امتزاج تھی بلکہ اس کے دوران انہوں نے مسلسل علمی نتائج بھی پیش کیے۔ ان کا مقالہ ممتاز قرار پایا، اور انہی کی محنت سے چھ بین الاقوامی جرنل مضامین شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی تحقیق میں جدید 3D اسپیشل اینالیٹکس، اسمارٹ بلڈنگ مینجمنٹ اور شہری منصوبہ بندی کے لیے درکار جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز کے نئے امکانات بھی سامنے آئے، جو ترقی پاتے شہروں بالخصوص پاکستان اور ملائیشیا کے لیے نہایت اہم ہیں۔
پرو چانسلر ایوارڈ کے ساتھ ساتھ انہیں UTM کی جانب سے ڈینز ایوارڈ اور بہترین طالب علم ایوارڈ بھی دیا گیا، جو اُن کی مستقل محنت، نظم و ضبط اور تحقیقی برتری کا واضح ثبوت ہے۔ ان اعزازات کے ساتھ ساتھ انہیں حال ہی میں ایزری ایوارڈ بھی ملا، جو جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) کے مستقبل ساز نوجوان محققین کو دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عثمان کی کامیابیوں کی بنیاد پاکستان کی مضبوط علمی روایت سے جڑی ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ماسٹرز اِن ارتھ سائنسز کیا، جہاں اُن کی دلچسپی زمینی و فضائی عمل کے سائنسی مطالعے میں گہری ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس ریموٹ سینسنگ و جی آئی ایس مکمل کیا، جس نے اُن کی تحقیقی سمت کو مزید مضبوط اور واضح کیا۔ یہی علمی پس منظر آگے چل کر انہیں بین الاقوامی تحقیق کی دنیا میں نمایاں مقام تک لے گیا۔

UTM کے نامور محقق ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اُزنیر اُجانگ، جو اُن کے سپروائزر رہے، نے عثمان کی محنت، مستقل مزاجی اور سادگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "وہ کبھی شہرت کے طلبگار نہیں تھے، صرف سیکھنے اور آگے بڑھنے کے خواہش مند رہے۔ آج اُن کی محنت سب کے سامنے ہے۔"
پاکستان کے لیے ڈاکٹر عثمان محمود کی یہ کامیابی اس بات کا مظہر ہے کہ ملک کے نوجوان محققین جدید ٹیکنالوجیز — جیسے GIS، جیو اسپیشل انٹیلیجنس اور 3D شہری تجزیات — میں عالمی معیار کا کام کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب انہیں علمی رہنمائی اور عالمی ماحول میسر آئے تو ان کی قابلیت کسی سے کم نہیں۔
ڈاکٹر عثمان آئندہ بھی جیو اسپیشل سائنسز میں اپنی تحقیق جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اس امید کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کی علمی طاقت کو دنیا بھر میں مزید نمایاں کریں۔






















