احمد جواد کے خلاف پاک بھارت جنگ کے دوران متنازعہ ٹویٹس کے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نےملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ احمد جواد کو ایک مرتبہ بھی انکوائری کیلئے نہیں بلایا گیا ۔ امریکی صدر نے جنگ بندی کا بیان دیا تو ہمارے مؤکل نے بھی کہا کہ جنگ بندی ہوئی۔ کیا جنگ بندی کی خبر دینا غلط ہے ؟ راولپنڈی میں آکر میزائل لگے کیا اس سے خوف ہراس نہیں پھیلا ؟ جب ٹویٹس میں کسی شخص کا نام نہیں لیا تو کیسے ہتک عزت ہو سکتی ہے۔ پوری ایف آئی آر ہم نے دیکھی ابھی تک معلوم نہیں شکایت کنندہ انیس الرحمن کون ہے۔ ایک شہری انیس الرحمن کیسے پوری ریاست کی اور کس حیثیت میں نمائندگی کرسکتا ہے؟ پراسیکیوڑ نے کہا کہ پیکا ایکٹ میں لکھا ہے کہ درخواست گزار کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ میری گل ہو گئی اے ، ایسے جملے ہم سب جانتے ہیں کہ کس کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے احمد جواد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔





















