سیکیورٹی فورسز نےباجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب خوارج کے گروہ کی نقل و حرکت کو ناکام بنادیا، مؤثر اوردرست کارروائی کے نتیجے میں چار خوارج ہلاک ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کےمطابق سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی،مؤثراوردرست کارروائی کے نتیجے میں چار خوارج ہلاک ہوئے،ہلاک خوارج میں اہم کمانڈر امجدعرف مزاحم بھی شامل ہے،امجد عرف مزاحم،خوارج کےسرغنہ نورولی کانائب اوررہبری شورا کا سربراہ تھا،امجد عرف مزاحم پر حکومت نے پچاس لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔
آئی ایس پی آرکا کہنا ہےکہ ہلاک خوارج افغانستان میں رہ کرپاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے،دشمن پاکستان میں اپنے خوارج کا حوصلہ بڑھانے کےلیےدراندازی کی کوششیں کررہا ہے، عبوری افغان حکومت کوچاہیے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے،افغان سرزمین مسلسل فتنہ الخوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
آئی ایس پی آرکےمطابق سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کےدفاع کےلیےپرعزم اور ثابت قدم ہیں،علاقے میں کلیئرنس اورسینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے،غیرملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن "عزمِ استحکام" پوری قوت سےجاری رہے گا۔
خیبرپختونخوا کے مطلوب اشتہاری دہشت گردوں کی نئی فہرست تیار
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مطلوب اشتہاری دہشت گردوں کی نئی فہرست تیار کرلی گئی،نئی فہرست صوبائی انتظامیہ اور حساس اداروں نے مل کر تیار کی ہے، صوبائی حکومت کی تیارکردہ فہرست وفاقی وزارت داخلہ کو موصول ہوگئی،باجوڑ میں آج مارے گئے کمانڈر امجد کا نام بھی 605 ویں نمبر پر موجود ہیں۔
ذرائع وزارت داخلہ کےمطابق فہرست میں 1349 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کےکوائف شامل ہیں، فہرست میں کئی دہشت گرد کمانڈرز کے سر کی بھاری قیمت مقرر کی گئی ہے،دہشتگردوں کے سر کی قیمت 3 کروڑ روپے تک مقرر کی گئی ہے،کرم کے دہشتگردکاظم خان کے سر کی قیمت 3 کروڑ روپے رکھی گئی ہے
دہشت گردوں کےکمانڈر امجد اللہ کےسرکی قیمت 2 کروڑ روپے ہے،باجوڑ کے مولوی فقیر محمد کا نام بھی شامل،سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ ہے،دہشت گردوں کا تعلق پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان،سوات ودیگر علاقوں سے ہے۔



















