چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰی آفریدی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ رولز 2025 سے ڈیجیٹل دور کا آغاز ہو چکا۔ نظام انصاف میں شفافیت، رسائی اور کارکردگی اولین ترجیح ہے۔ چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات پر ججز اور اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ 45 سال بعد عدالتی قوانین میں تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں۔ چین کی اعلیٰ عدالت کے ساتھ مفاہمتی معاہدہ طے پایا جبکہ ترکیہ کی آئینی عدالت سے معاہدہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئےنیا ادارہ جاتی طریقہ کارمتعارف کرانے کے ساتھ سپریم کورٹ نےرواں سال 27 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے پرانے سزائے موت اورعمر قید کے کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ اب عدالت میں 2025 تک کےنئے مقدمات زیرسماعت ہیں۔ عوامی سہولت کیلئے آن لائن فیڈ بیک سسٹم قائم کیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن ہاٹ لائن اور کال سنٹر کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔



















