وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں منعقدہ جی-24 وزراء و گورنرز اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان میں حاصل ہونے والے معاشی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
وزیر خزانہ نے اجلاس میں بتایا کہ ٹیکس اصلاحات،توانائی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری آئی ۔انہوں نے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان میں ٹیرف اصلاحات کے آغاز میں تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدی مسابقت میں اضافہ اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تجارتی راہداریوں اور عالمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو سراہا ۔
وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمداور نگزیب نے واشنگٹن میں ورلڈبینک فورم میں بھی شرکت کی اور زرعی اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے پر روشنی ڈالی، محمداورنگزیب نے نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار زرعی ترقی پر زور دیا۔
وزیرخزانہ نے ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کے ہمراہ مباحثے میں شرکت کی، ایگری کنیکٹ فورم میں عالمی پالیسی سازوں اور ماہرین نے بھی شرکت کی ۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا چوتھائی حصہ ہے، چھوٹے کسانوں کو مالی سہولیات دینے کیلئے اقدامات جاری ہیں، پائلٹ منصوبوں سے پیداوار اور آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا، حکومت بینکوں کو زرعی قرضوں میں اضافے کی ترغیب دے رہی ہے، زراعت میں موسمیاتی لچک پیدا کرنا حکومت کی ترجیح ہے، پاکستان اور ورلڈ بینک کی توجہ 10 سالہ فریم ورک موسمیاتی اصلاحات پر مرکوز ہے، فنڈز دستیاب ہیں مگر ان کے بروقت استعمال کو تیز کرنا ضروری ہے، پاکستان زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے، ایک ہزار پاکستانی طلبہ چین میں اعلیٰ زرعی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔



















