پشاور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف کے لیے نمائندہ نامزد کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ جے یوآئی کی بھی سہیل آفریدی کے انتخاب کوچیلنج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے منظور ہوگئی۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف کے لیے نمائندہ نامزد کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ سلمان اکرم راجا نے گزشتہ روز علی امین گنڈا پور کی اسمبلی فلور پر ٹراسنکرپٹ عدالت میں پڑھ کر سنائی۔
دوران سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ اراکین کے ووٹ سے وہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، ایڈیشنل ٹارنی جنرل صاحب گورنر نے کیا جواب دیا ہے؟ جس پر ایڈیشنل ٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر سے بات کی وہ کہتے ہیں کراچی کے دورے پر ہوں، آج شام کو مصروفیات ختم ہو گی، کل دوپہر 3 بجے تک وہ پشاور میں ہوں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علی امین کا استعفی منظور نہیں ہوا تھا، ایڈیشنل ٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر پشاور آکر اسکا قانون کے مقابق فیصلہ کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا گورنر کے پاس کوئی خصوصی طیارہ موجود نہیں، وکیل نے جواب دیا کہ گورنر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس جہاز ہے وہ بھجوا دیں واپس آ جاوں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب فوری جہاز کا بندوبست کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
دوسری جانب جے یوآئی کی سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی۔ سماعت آج ہی دو رکنی بینچ کرے گا۔ جے یوآئی کےمطابق وزیراعلی کا استعفی ابھی منظور نہیں ہوا۔ کیسے دوسرے وزیراعلی کا انتخاب ہوسکتا ہے؟۔






















