وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ مسائل ختم ہو گئے،چیلنجز موجود ہیں، اگلے 2 سے ڈھائی سال میں برآمدات بڑھانے کا چیلنج ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں بہتری آئی ہے، ٹیکس ریٹ زیادہ ہیں،انہیں کم کرنا ہے، اسی راہ پر چلتے رہیں گے تو مزید بہتری آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق بلال اظہر کیانی کا کہناتھا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل کا فائدہ ہو گا، نیشنل ٹیرف پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، 5سال میں ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنا چاہتے ہیں، اس سال آئیسکو،فیسکو اور گیپکو کی نجکاری ہو گی، گلف ممالک کے ساتھ ویزوں کے مسائل پر بات چیت جاری ہے، کاروباری افراد اور طالب علموں کیلئے آسانی کرنی ہے۔
عارف حبیب نے کہا کہ مارکیٹ پرفارم کرتی ہے تو نئے سرمایہ کار دلچسپی لیتے ہیں، کوئی سرمایہ کار کسی ملک میں انویسٹ کرنےکیلئے کاسٹ آف پروڈکشن دیکھتا ہے، اس بار اُمید تھی کہ حکومت سپر ٹیکس ختم کر دے گی، وزرا نے بھی وعدہ کیا تھا کہ اسپیس ملے گی تو سپر ٹیکس کم کریں گے، حکومت کو سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اعلانات کرنا ہوں گے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار جا رہے ہیں،آ بھی رہے ہیں، مشکل حالات میں بھی اسٹاک مارکیٹ کی سیل پرچیس نہیں رُکی، سکھر کراچی موٹروے 1.1ٹریلین کا منصوبہ ہے، شاہراہ بھٹو کا باقی حصہ60ارب روپےکاہے، ان دونوں منصوبوں کوپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کےتحت بنانا چاہیے، ان دونوں منصوبوں کی رفتار تیز بھی ہو جائے گی۔



















