وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹر وے پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ افسران کیلئے حجام، باورچی اور ذاتی ملازم کی سہولیات ختم کردیں۔ موٹروے پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کو ایک ہفتے کے اندر اپنی کوتاہیاں دور کرنے کا حکم بھی دیدیا۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اہم اجلاس کے دوران کہا کہ موٹروے پولیس کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن نہیں بہتری دیکھناچاہتا ہوں۔ کوتاہیاں دور کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے رہا ہوں۔ پولیس افسران کے گھروں پر کام کرنے والے سرکاری ملازمین واپس دفتر بھجوانے کی ہدایت کر دی۔ کہا کہ پولیس اہلکاروں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ پولیس افسران کو اب باربر ، کک اور ذاتی ملازم نہیں ملیں گے ۔ شاہانہ طرزعمل نہیں چلے گا ، اخراجات میں کمی لانا ہوگی۔
عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ بیوروکریسی کو روایتی طریقہ کار سے نکل کر عملی کام کی طرف جانا ہے۔ عہدے اس ملک پر احسان نہیں ۔ ہمیں اس وطن کےلئے کچھ کرنا ہے۔ کارکردگی دکھائیں گے تو موٹروے پولیس کو بہتر مراعات دیں گے۔ موٹر ویز پر جرائم کی سرکوبی کےلئے پولیس کو چوکنا ہونا ہوگا۔ سیف سٹی ، لوکل پولیس اور دیگر اداروں کو موٹر ویز سے منسلک کریں۔
وزیر مواصلات نے ہدایت کی کہ موٹرویز پر اوور سپیڈنگ اور ایکسل لوڈ پالیسی پر 100 فیصد عملدرآمد یقینی بنائیں، 120 کلومیٹر اسپیڈ پر جرمانہ اور 150کلومیٹر کی رفتار پر ایف آئی آر ہو گی ۔ حادثات کی روک تھام سےمتعلق شہریوں کی آگاہی کے لئے پمفلٹ اور بورڈ لگائیں ۔ انٹری پوائنٹس پر مزید آفیسرز تعینات کریں ۔ موٹرویز پر گاڑیوں کی فٹنس کا نظام آؤٹ سورس کیا جائے۔
اجلاس میں موٹرویز پر ترقی یافتہ ممالک کی طرح گاڑیوں کی الیکٹرانک مانیڑننگ پر غور کیا گیا۔ وفاقی سیکرٹری مواصلات اور آئی جی موٹروے پولیس نے شرکا کو بریفنگ دی۔






















