سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں نظرثانی درخواستوں کی منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ سے جاری تفصیلی فیصلے کے مطابق مخصوص نشستوں کا معاملہ سنی اتحاد کونسل سپریم کورٹ لائی، سپریم کورٹ کے سامنے اپیل آرٹیکل 185 کے تحت آئی، مکمل انصاف کا اختیار تب استعمال ہوتا جب پی ٹی آئی بھی عدالت کے سامنے ہوتی، جبکہ مخصوص نشستوں کیلئے ہمارے سامنے پی ٹی آئی کی کوئی درخواست زیرالتوا نہیں تھی،مخصوص نشستوں پر کامیاب قرار ارکان کو ہٹایا گیا۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے مخصوص نشستوں کے کیس میں 7 غیر متنازع حقائق ہیں، سنی اتحاد کونسل کی حد تک مرکزی فیصلے میں اپیلیں متفقہ طور پر خارج ہوئیں کہ وہ مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، مرکزی فیصلے میں پی ٹی آئی کو ریلیف دے دیا گیا جبکہ وہ فریق ہی نہیں تھی۔
فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی اگر چاہتی تو نظر ثانی میں بطور فریق شامل ہو سکتی تھی مگر جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی کیس میں کسی بھی فورم پر فریق نہیں تھی، جو ریلیف مرکزی فیصلے میں ملا۔ وہ برقرار نہیں رہ سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے سپریم کورٹ نے کبھی یہ حکم نہیں دیا کہ پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی، اسی آزاد امیدواروں میں سے کسی نے بھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں یا مخصوص نشستیں انہیں ملنی چاہئیں، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دیں، مرکزی فیصلے میں ان جماعتوں کو بغیر سنے ڈی سیٹ کر دیا گیا، جو قانون اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔



















