وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت نوٹس لے لیا، شہریوں سے پُر امن رہنے کی پرزور اپیل کردی۔
وزیراعظم شہبازشریف نےاپنےبیان میں کہا پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے،مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانےسےگریزکریں،قانون نافذ کرنیوالے ادارےمظاہرین کےساتھ تحمل اوربردباری کا مظاہرہ کریں،حکومت اپنےکشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہے ۔
وزیراعظم نےناخوشگوارواقعات پرگہری تشویش کا اظہارکرتےہوئےواقعےکی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے،وزیراعظم نےاحتجاجی مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
مذاکراتی ٹیم مظفرآباد جانے کےلیےتیارہوگئی ہے،حکومتی سطح پرمسئلے کے پرامن حل کے لیے وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کی توسیع کا فیصلہ کیاہے،کمیٹی میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزراء سردار یوسف،احسن اقبال،سابق صدر آزاد جموں وکشمیر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نےہدایت کی ہےتھی کہ مذاکراتی کمیٹی فورا مظفرآباد جائےاورمسائل کا فوری اور دیرپاحل نکالے،وزیراعظم نےایکشن کمیٹی کےاراکین اورقیادت سےاپیل کی ہےکہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔
کمیٹی اپنی سفارشات اورمجوزہ حل بلا تاخیروزیراعظم آفس کو بھجوائےگی تاکہ مسائل کےفوری تدارک کے لیےاقدامات کیےجاسکیں، وزیراعظم نےوطن واپسی پر مذاکرات کےعمل کی نگرانی کا اعلان کردیا۔
شرپسندعناصر نےپولیس اہلکاروں پرحملے کیےاوراسلحہ چھین لیا،زخمی اہلکاروں کا کہناکہا ہےہمارے منع کرنےکےباوجودمظاہرین پہاڑوں پرچڑھے،ہم سے اسلحہ چھینا گیا اورفائرنگ کی گئی،شرپسند مظاہرین نے ہماری رہائش گاہ کاگھیراؤ کیا،سامان بھی جلادیا۔
پرتشدد مظاہروں میں چھ شہری اورتین پولیس اہلکار شہید جبکے اب تک 172پولیس اہلکار زخمی ہو چکےہیں،جن میں 12 کی حالت تشویشناک ہے۔






















