اسلام آباد میں تھانہ شالیمار کی حدود سے 15 سالہ لڑکی کے اغوا کے کیس میں مقامی عدالت نے ملزمہ اسما آصف کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی، پولیس کو تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کے تحریری فیصلے کے مطابق ملزمہ اسما پر لڑکی کو ورغلا کر اغوا کرانے کا الزام ہے۔ متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں واضح طور پر اسما آصف کو ملزمہ بتایا ۔ کوئی نکاح نامہ ریکارڈ پرموجود نہیں، ملزمہ کو جرم سے جوڑنے کا کافی مواد موجود ہے۔
فیصلے کے مطابق ضمانت قبل از گرفتاری ایک غیر معمولی ریلیف ہے، یہ ریلیف صرف اس صورت میں ملتا ہے جب مدعی کی بدنیتی یا جھوٹ واضح نہ ہو، لیکن یہاں ایسا کچھ ثابت نہیں ہوا۔ عدالت نے پولیس کو تفتیش مکمل کرکے چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ملزمہ اسما آصف کے خلاف متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔






















