سپریم کورٹ نے ساس اور سسر کے قتل کے مجرم اکرم کی اپیل خارج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیےکہ میاں بیوی میں جھگڑا نہیں تھا تو ساس سسرکو قتل کیوں کیا؟دن دیہاڑے دو افرادکو قتل کیا گیا، اور اب کہا جارہا ہےکہ غصہ آ گیا تھا۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ بیوی کو منانے گیا تھا تو ساتھ پستول لے کر کیوں گیا؟
ملزم کےوکیل پرنس ریحان نےکہا کہ میرا موکل بیوی کومنانے کے لیےمیکے گیا تھا،جس پرجسٹس ہاشم کاکڑ نےریمارکس دیے کہ وکیل صاحب آپ تو لگتا ہےبغیر ریاست کے پرنس ہیں،جسٹس اشتیاق ابراہیم نےکہا کہ بعض اوقات مدعی بھی ایف آئی آر کے اندراج میں جھوٹ بولتے ہیں،قتل شوہر نے کیا لیکن ایف آئی آر میں مجرم کے والد کا نام بھی ڈال دیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جرم ثابت ہے اور سزا میں کمی کی کوئی وجہ نہیں،یوں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا اور مجرم کی اپیل مسترد کر دی گئی۔



















