نولکھا تھانے کی پولیس نے لاہور کے علاقے دہلی دروازے کے قریب کیمیکل مارکیٹ میں عطائی ڈاکٹرکو بے نقاب کرنے پر سماء نیوز کے ساتھ ہی غنڈہ گردی شروع کر دی ، اے ایس آئی جاوید نے سماء کے نمائندے کو جعلی مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی لیکن ڈی آئی جی آپریشنز کی بر وقت اینٹری پر معاملہ درست ہوا۔
مکمل ویڈیو دیکھیں:
سماء نیوز کے کیمرہ مین حق نواز نے مریض کا روپ دھار کر عطائی ڈاکٹر سے علاج کروایا، بخار اور نزلہ زکام کا بتانے پر عطائی ڈاکٹر نے دوائی کے ساتھ انجیکشن بھی لگا دیا، یہ سارا منظر ایک خفیہ کیمرے میں ریکارڈ کیا گیا۔ بعد ازاں سماءٹی وی کی ٹیم کیمرے اور مائیک کے ساتھ کلینک پہنچی تو عطائی ڈاکٹر نے پہلے کیمرے بند کرنے کا کہا اور پھر مان بھی گیا کہ وہ ڈاکٹر نہیں بلکہ اپنے والد کے کلینک کو چلا رہا ہے اور گزشتہ تین سال سے یہ کام کر رہا ہے۔یہ عطائی ڈاکٹر حقیقت میں جنرل ہسپتال کا چپڑاسی ہے ۔
سماء نیوز کی ٹیم نے پولیس کو 15 پر اطلاع دی جس پر نولکھا تھانے سے اہلکار موقع پر پہنچے۔ اے ایس آئی جاوید نے کلینک کا معائنہ کیا اور دعویٰ کیا کہ عطائی ڈاکٹر کو تھانے لے جا کر کارروائی کی جائے گی اور محکمہ صحت کلینک سیل کرے گا۔
تاہم تھانے پہنچنے کے بعد اے ایس آئی جاوید نے سماء نیوز کی ٹیم پر ہی الزام لگاتے ہوئے پروڈیوسر کو حراست میں لینے کی کوشش کی، اے ایس آئی جاوید نے کہا کہ تمہیں پیسے نہیں ملے تو تم کیمرے اٹھا کر آ گئے۔ اس دوران سماء کے پروڈیوسر کا موبائل فون اور پرس بھی چھین لیا گیا اور حوالات میں بند کر دیا گیا۔ اے ایس آئی جاوید کا کہنا تھا کہ ٹیم نے موقع پر لڑائی جھگڑا کیا اس لیے مقدمہ درج کیا جائے گا۔
سماء نیوز کے رپورٹر عامر مجید نے فوری طور پر ڈی جی آپریشنز فیصل کامران کو واقعے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے نوٹس لیتے ہوئے عطائی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی اور سماء ڈیجیٹل کے پروڈیوسر کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا، انہوں نے پولیس اہلکاروں کی سخت سرزنش بھی کی ۔





















