پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سولہویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا انعقاد کیا گیا ، جس کی وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور ترک وزیر دفاع نے مشترکہ صدارت کی۔ وزیر تجارت نے دنوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں مزید وسعت لانے پر زور دیتے ہوئے ترک سرمایہ کاروں کو سی پیک کے سپیشل اکنامک زونز میں سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی وقت کے ہر امتحان پر پوری اتری ہے۔ انہوں نے تجارتی تعلقات میں مزید وسعت لانے پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے ٹریڈ ان گڈز معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنے اور ترک سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سہولتیں دینے کا اعلان کیا۔
اجلاس میں قابل تجدید توانائی، تیل و گیس اور ایل این جی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزارت تجارت کے مطابق دفاعی تعاون پاک ترکیہ تعلقات کی پہچان ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار اور استعداد کار بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
جام کمال نے کہا کہ زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور صحت کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں۔ پروگرام سے صحت کے شعبے میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ فیصل آباد میں پاک ترکیہ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سینٹر سنگ میل ثابت ہوگا۔ آئی ٹی، ای کامرس، فِن ٹیک اور مصنوعی ذہانت میں بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔دونوں ممالک نے افرادی قوت، میڈیا، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا۔



















