پنجاب میں بپھرے سیلابی ریلے سب کچھ بہا کر لے گئے۔ اموات کی تعداد 33 ہوگئی۔ 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ 2200 سے زیادہ دیہات زیرآب آگئے۔ محکمہ موسمیات نے یکم ستمبر تا 3 ستمبر تک سیلاب کا نیا الرٹ جاری کردیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔
یکم ستمبر تا 3 ستمبر تک لاہور،گوجرانوالہ اورگجرات ڈویژن میں بھی تیز سے شدید بارشیں متوقع ہے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب میں بھی پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے، لاہور ڈویژن، گوجرانوالہ ڈویژن اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔
قبل ازیں سیلاب کی صورتحال پر میڈیا کو دوران بریفنگ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت تاریخ کا بدترین سیلاب گزر رہا ہے، دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کےمقام پر پیک پکڑرہا ہے۔ اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ حالیہ سیلاب سے پنجاب میں 33 اموات ریکارڈ ہوچکی ہیں۔
دریائے راوی کا مین ریلا ہیڈ بلوکی کے مقام پر پہنچ رہا ہے، خانیوال، اوکاڑہ اور اسکے آس پاس کے مزید دیہات زیرآب آسکتے ہیں۔ اوکاڑہ، ساہیوال، کمالیہ، خانیوال، کبیروالا کے دیہات میں پانی کا بہاؤبڑھ رہا ہے۔ پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی میں کل تک ایک لاکھ 35 ہزارکیوسک پانی پہنچے گا۔
عرفان علی کاٹھیا کا مزید کہنا تھا کہ اب تک7لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، اب ہم نے جانوروں کو ریسکیو کیلئے بیڑے منگوالیے جو تمام اضلاع میں دستیاب ہیں، اگلے 5 سے6 روز میں پانی کا اسپیل اُترے گا تو ریسکیو کاکام مزید تیز ہوجائے گا، لاہور سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کا یہ اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔



















