پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کسی بھی طرح کی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور بھوسے کا ڈھیر ہے ، ہزار کوششوں کے باوجود اس میں تحریک پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس آپشنز ختم ہو چکے ہیں اور تحریکیں چلا کر یہ تھک چکے ہیں، پی ٹی آئی کو کچھ سمجھ نہیں کہ قومی ڈائیلاگ کس سے کرنا ہے کس سے نہیں، ان کے پاس قومی ڈائیلاگ کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں وہ تخیلاتی دنیا میں رہتے ہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی بھی طرح کے ڈائیلاگ، مذاکرات، جمہوری اقدار اور افہام و تفہیم کیلئے نہیں بنی، اگر گھر میں بیٹھ کر 4 لوگوں نے مکالمہ کرنا ہے تو اس کو ڈائیلاگ اور مذاکرات نہیں کہتے اور اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے بات نہیں کرنی تو قومی ڈائیلاگ کیسے ہو گا؟۔
انہوں نے سوالات اٹھائے کہ اگر آپ قومی ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں تو 2 بڑی جماعتوں کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں؟ ، 5 اگست اور 14 اگست کو پی ٹی آئی کی کال پر کتنے لوگ نکلے؟۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 9 مئی کو دفاعی تنصیبات اور 250 مقامات پر سازش کے تحت حملےکیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہی ہے۔






















