آئی ایم ایف نے اپنی نئی رپورٹ میں مزید مطالبات کردیئے، وفاقی سیکریٹری خزانہ کو اسٹیٹ بینک بورڈ سے نکالنے اور ڈپٹی گورنرز کی خالی اسامی فوری پُر کرنے اور کمرشل بینکوں کی نگرانی میں حکومتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کردی۔
آئی ایم ایف نے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسز اسیسمنٹ رپورٹ میں مزید مطالبات پیش کر دیئے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مزید خود مختاری دینے پر زور دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک ایکٹ میں مزید تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف نے وفاقی سیکریٹری خزانہ کو اسٹیٹ بینک بورڈ سے نکالنے کی سفارش بھی کردی۔
آئی ایم ایف کی اسٹیٹ بینک کے دو ڈپٹی گورنرز کی خالی اسامیوں پر فوری بھرتی کرنے کی سفارش کرد۔ اس وقت ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کی تین میں سے دو اسامیاں خالی ہیں۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے کمرشل بینکوں کی نگرانی میں حکومتی اختیارات ختم کرنے کی سفارش کردی اور کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔
حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان سفارشات پر بات چیت جاری ہے۔



















