سماء نے سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے سینیٹرز کی جانب سے 16 سال کی عمر تک کے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے نجی بل کی واپسی کی وجوہات کا پتہ لگالیا۔ ذرائع کا کہنا ہے اہم اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کے باعث بل واپس لیا جارہا ہے، مشاورت سے ترمیم کرکے نیا مسودہ پیش کیا جائے گا۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹرز کی جانب سے سینیٹ میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کیلئے عمر کی حد مقرر کرنے کا بل پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ 16 سال تک کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہونی چاہئے، تاہم بل واپس لے لیا گیا۔
سماء نے تحقیقات کی تو بل واپس لینے کی وجوہات سامنے آگئیں، نجی بل واپس لینے کی تحریک آج سینیٹ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی، ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینٹرز کی جانب سے بل واپس لینے کا فیصلہ اہم اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کے باعث کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کا سوشل میڈیا کے استعمال کیلئے 16 سال سے زائد عمر کی پابندی پر اختلاف ہے، نابالغوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس روکنے میں ناکامی پر تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سینیٹرز مسرور احسن اور سرمد علی پارٹی قیادت کی ہدایت پر بل واپس لینے پر آمادہ ہوئے، باہمی مشاورت سے رد و بدل کے بعد سوشل میڈیا حد عمر بل دوبارہ پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی کی عمر کی حد 16 سال سے کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، نئے بل میں عمر کی حد 13 یا 14 سال کرنے کے آپشنز پر مشاورت سے فیصلہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر کمپنیوں کو 50 لاکھ جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزاؤں میں کمی ہوگی، نابالغوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس روکنے میں والدین کا کردار بھی مؤثر بنایا جائے گا۔





















