پاکستان کےمالیاتی نظام میں ورچوئل اثاثوں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ، سرمایہ کاروں کےتحفظ، شفافیت اور مارکیٹ کی نگرانی کو یقینی بنانےکا فیصلہ کر لیا گیا۔
رانامحمودالحسن کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی نے ورچوئل اثاثہ جات بل دوہزار پچیس کی منظوری دے دی۔ بل کے مطابق ورچوئل ایسیٹ سروس پرووائیڈرز کیلئے باقاعدہ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہوگی۔ کمیٹی نے بل کی اہمیت کو ملکی فنانشل ایکو سسٹم کیلئےسنگِ میل قرار دیا۔ قائمہ کمیٹی کےاجلاس میں سینیٹرثمینہ ممتاز زہری کےتوجہ دلاؤ نوٹس پربھی غور ہوا۔ اقوام متحدہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ پر بریفنگ کے بعد نوٹس نمٹا دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق اعدادوشمار پر تشویش کا اظہار کیا۔






















