پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنے کے دوران در پردہ رابطوں کے متعلق مزیدحقائق سامنے آ گئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کوطبی معائنہ کیلئے شفاء اسپتال منتقل کرنے پر آمادہ ہو گئی تھی جبکہ حکومت قاسم زمان اورایک پارٹی رہنما کو ساتھ بھیجنے کو بھی تیار ہو گئی تھی،اپوزیشن کی جانب سے بہنوں کی سفارش پر ڈاکٹر نوشیروان برکی کا نام دینے پر معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی بانی کے معائنے کیلئے شفاء اسپتال بھیجنے کو تیارتھی جبکہ حکومت قاسم زمان اور ایک پارٹی رہنما کو ساتھ بھیجنے کو بھی تیار ہو گئی تھی لیکن علیمہ خانم نے قاسم زمان کا نام واپس لینے اور ڈاکٹر برکی کو ساتھ بھیجنے کی تجویز دی ، اپوزیشن کی جانب سے بہنوں کی سفارش پر ڈاکٹر نوشیروان برکی کا نام دینے پر معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
حکومت اپوزیشن قیادت کو ملاقات کیلئے جیل میں بانی پی ٹی آئی تک رسائی کو تیارتھی ،دھرنے کے دوران سہیل آفریدی اور بیرسٹر گوہر کے حکومتی حلقوں سے رابطے رہے،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو بھی صورت حال کا علم تھا، محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو بھی رابطوِں کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا، ڈاکٹر برکی کے نام پر حکومت نہ مانی تو بیرسٹر گوہر اور راجا ناصر عباس کو پمز بھیجا گیا۔
بیرسٹر گوہر،راجا ناصر عباس نے پمز میں بریفنگ کے دوران اطمینان کا اظہار کیا تھا،راجا ناصر عباس نے ڈاکٹرز کا اطمینان سامنے آنے پر بکرے کا صدقہ کرنے کی تجویز دی تھی۔
پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ حکومت نےبانی کےاسپتال داخلےکی نہیں،شفاءاسپتال میں طبی معائنےکی پیشکش کی تھی۔ ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال میں داخل کرنے پر کبھی بھی ہم علیحدہ نہیں تھے، ڈاکٹر طارق فضل






















