علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو گا امریکہ اور اسرائیلی حکومت کبھی بھی لبنان میں ایک اور الجولانی کی تعیناتی کا انتظام نہیں کر سکے گی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے اپنے انٹرویو میں زنگیزور راہداری کے منصوبے کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خطے کی جغرافیائی سیاست کو بدل دے گا، سرحدوں کو از سر نو کھینچے گا اور آرمینیا کی تقسیم کا باعث بنے گا، اسی لیے آرمینیا کے عوام بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ایران اس منصوبے کو جنوبی قفقاز کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور روس بھی اس کا سٹریٹیجک مخالف ہے۔ یہ صرف تجارتی راستہ نہیں بلکہ ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف ایک سیاسی سازش ہے، جس میں نیٹو ایران اور روس کے درمیان جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
علی اکبر ولایتی کا کہنا تھا کہ جغرافیائی تبدیلی ایران کی سرحدوں کو بھی متاثر کرے گی، اس لیے ایران اپنے مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔ آذربائیجان اور نخچیوان کے درمیان تعلق کے لیے کسی راہداری کی ضرورت نہیں، وہ ایران کی سرزمین استعمال کر سکتے ہیں۔
لبنان کے بارے میں بات کرتے ہوئےکہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ لبنان میں کچھ لوگوں نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی تجویز دی ہو، لیکن جس طرح پچھلے لبنان مخالف منصوبے کامیاب نہیں ہوئے تھے، اس بار بھی اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکیں گے۔اگر حزب اللہ ہتھیار ڈال دے تو لبنانیوں کی جان، مال اور عزت کا دفاع کون کرے گا؟ کیا ماضی کے تجربات اس ملک کے بعض سیاستدانوں کے لیے سبق آموز نہیں ہیں؟
انھوں نے کہا کہ لبنان میں یہ عمل صرف امریکہ اور اسرائیل کی خواہش ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سمجھتے ہیں کہ وہ لبنان میں ایک اور ایک اور الجولانی کو اقتدار میں لا سکتے ہیں، لیکن یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، اور لبنان ہمیشہ کی طرح ثابت قدم رہے گا۔اسلامی جمہوریہ ایران حزب اللہ کے تخفیف اسلحہ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ ایران نے ہمیشہ لبنانی عوام اور مزاحمت کی مدد کی ہے اور کرتا رہے گا۔
ولایتی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل حزب اللہ کے بعد الحشد الشعبی کو بھی غیر مسلح کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، لیکن ایران اور عراق اس کی مخالفت کریں گے۔ الحشد الشعبی عراق میں وہی کردار ادا کر رہا ہے جو لبنان میں حزب اللہ کر رہا ہے۔
انہوں نے یمنی فورسز کو مزاحمتی محاذ کا گوہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کنٹرول میں باب المندب اسٹریٹ ہے اور وہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر کے منصوبے ناکام بنا رہے ہیں۔ شامی مزاحمت بھی مستقبل میں اسرائیلی منصوبے ناکام بنائے گی۔






















