ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے کہا کہ صیہونی حکومت کا غزہ پر مکمل فوجی قبضہ اور وہاں کے عوام کو زبردستی بے دخل کرنا، مقبوضہ فلسطین میں نسل کشی کے مخصوص ارادے کی ایک اور علامت ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی صیہونی حکومت کے اقدامات میں شراکت شرمناک ہے۔
ترجمان اسماعیل بغائی کا کہنا تھا کہ غزہ کے بھوکے پیاسے عوام تک فوری انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیل کو نسل کشی سے روکنا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ اس بحران کو روکا جا سکے جو انسانی تہذیب کی قانونی، اخلاقی اور اصولی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔
طرح رژیم صهیونیستی برای اشغال کامل نظامی غزه و کوچاندن اجباری مردم ، نشانه دیگری از نیت خاص این رژیم برای نسلکشی در فلسطین اشغالی است
— 🇮🇷 وزارت امور خارجه (@IRIMFA) August 8, 2025
اسماعیل بقائی سخنگوی وزارت امور خارجه، برنامه #رژیم_صهیونیستی برای اشغال نظامی شهر #غزة و کوچاندن اجباری ساکنان آن را طرحی برای تکمیل نسلکشی… pic.twitter.com/bVuvGWdA1g
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کا مقصد پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔اسرائیل غزہ کو اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا بلکہ سیکورٹی زون قائم کرکے علاقہ عرب فورسز کے حوالے کیا جائے گا۔






















