امریکی کوسٹ گارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹائٹن آبدوز کا المناک حادثہ اووشن گیٹ کمپنی کے زہریلے ورک کلچر اور حفاظتی غفلت کا نتیجہ تھا۔
335 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو پانچ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اووشن گیٹ نے جان بوجھ کر حفاظتی ضوابط سے بچنے کی کوشش کی اور ریگولیٹری نظام کو گمراہ کیا۔
کمپنی کے اندر ایسے ملازمین کو خاموش کرانے کے لیے دھمکیوں اور برطرفیوں کا سہارا لیا گیا جو ڈیزائن، دیکھ بھال اور معائنے میں موجود سنگین نقائص کی نشاندہی کرتے تھے۔
تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آبدوز کے ڈیزائن، دیکھ بھال اور حفاظتی معائنے کے طریقہ کار میں سنگین خامیاں پائی گئیں۔
رپورٹ میں مستقبل کے لیے 17 اہم حفاظتی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں تاکہ ایسے سانحات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
یاد رہے کہ جون 2023 میں ٹائٹن آبدوز ٹائیٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے تباہ ہو گئی تھی جس میں اووشن گیٹ کے بانی اسٹاکٹن رش، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
سانحے کے بعد کمپنی نے جولائی 2023 میں اپنا کام معطل کر دیا تھا۔
تازہ رپورٹ پر تاحال اووشن گیٹ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔





















