وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
جمعرات کو انسداد دہشتگردی و ریاستی رٹ کے قیام کے متعلق اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ ، اعظم نذیر تارڑ ، احد خان چیمہ ، رانا ثنا اللہ ، طلال چوہدری اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپیکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشتگردی کیخلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی مؤثر بنانے اور سفارشات پر عملدرآمد کی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے اور دنیا دہشت گردوں کیخلاف ہماری کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ریاست نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے اور زمینی آپریشن ، متعلقہ قانون سازی اور انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کردار قابل تعریف و قابل تحسین ہے، جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ پر مجھ سمیت پوری قوم کو فخر ہے، دہشتگردی کیخلاف قوم ، افواج ، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد اور یکسو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افواج نے آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا اور صوبائی حکومتوں، آئی بی ، وزارت داخلہ ، سی ٹی ڈی نے دہشتگردی کیخلاف موثر اقدامات کئے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت فتنتہ الہندوستان اور فتنتہ الخوارج کے مکمل خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، مشترکہ کاروائیوں سے اسمگلنگ کیخلاف مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، اسمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے، حکومت نے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی تبدیلیاں لائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی پروگرام پر عملدرآمد مؤثر طور پر جاری ہے۔



















