وزارت صنعت و پیداوار نے ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز کو مستقل طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 31 جولائی (آج ) سے یوٹیلیٹی اسٹورز پر تمام خرید و فروخت کے آپریشنز مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔

حکومت کے فیصلے کے تحت تمام فعال اسٹورز پر موجود اسٹاک کو وئیر ہاؤسز میں منتقل کیا جائے گا جبکہ آئی ٹی سامان اور دیگر اثاثوں کی شفاف نیلامی کی جائے گی۔
لازمی پڑھیں ۔وفاقی حکومت کا یوٹیلیٹی اسٹورز 10 جولائی سے مکمل بند کرنے کا فیصلہ
کرائے پر حاصل کیے گئے اسٹورز کو یکم اگست سے خالی کرنے کے نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی (وی ایس ایس) پیکج کی فراہمی کی ہدایت بھی کی تھی جس کا تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا۔
یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین نے حکومت سے 29 ارب روپے سے زائد کے پیکج کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کے عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو پیکج سے نکالاجائے۔
ملازمین 6 ہزار 200 کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کیلئے بھی 6 ارب سےزائد روپے مانگ رہے ہیں اور یونین نے 22 ارب 84 کروڑ سے زائد مستقبل ملازمین کیلئے پیکج مانگا ہے، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے اس وقت مستقل ملازمین 5217 ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن نے وینڈرز کی ادائیگی کیلئے 18 ارب روپے مانگے ہیں۔
نظرثانی پیکج پر بنائی گئی کمیٹی ابھی تک پیکج تیار کر سکی اور نہ ہی منظوری لے سکی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز میں 6 ارب روپے سے زائد کا اسٹاک موجود ہے اور کارپوریشن ملک بھر میں اربوں روپے کی جائیدادوں کی مالک ہے۔






















