ڈیگاری (ڈیغاری ) واقعہ قلب و روح کو تڑپا دینے والا سانحہ ہے ۔جس نے ملک کے ہر فرد کو مضطرب اور جھنجوڑا ہے ۔ مسلح ہجوم کے ہاتھوں بانو بی بی اور احسان اللہ کے بہیمانہ اور سنگدلانہ قتل کی ہر سطح پر مذمت ہوئی ہے ۔ہر طبقہ فکر کی جانب سے اس گھناونے فعل میں شریک افراد کو سخت انجام سے دو چار کرنے کے مطالبات سامنے آئے ہیں ۔ ویڈیوز عام ہونے کے بعد واقعہ ابلاغ کے عالمی ذرائع پر بھی اٹھا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے ماوارائے عدالت قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری کاروائی کی ہدایت کردی ۔بلوچستان میں غیرت کے نام پرقتل کے واقعات پہلے بھی رونما ہو تے رہے ہیں ۔ جس کی فہرست بہت طویل ہے ۔ بلا شبہ گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں ۔ شریک افراد کو عدالتوں سے سزائیں ملتی ہیں حتی کہ موت کی سزائیں سنا دی جاتی ہیں ۔یہ واقعات خاندانی دشمنیوں کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں لوگ مارے جاتے ہیں۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں کہ جہاں قتل کے اصل محرکات لین دین ، جائیداد ، گھریلو جھگڑے حتیٰ کہ دوسری شادی ہوتے ہیں لیکن غیرت ، سیاہ کاری ، کاروکاری جیسے نام دے کر قبائلی تحفظ حاصل کرلیا جاتا ہے۔ بہرحال غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں کمی نہیں آئی ۔صرف پچھلے چھ سالوں میں 200 سے زائد افراد غیرت کے نام پر بلوچستان میں قتل ہوچکے ہیں ۔
بعض واقعات ذرا ئع ابلاغ پر آکر خاص رخ اور نوعیت اختیار کر لیتے ہیں جس پر پولیس اور انتظامیہ مضبوط ہاتھ ڈال دیتی ہے، عدالتیں نوٹس لے لیتی ہیں۔ وزیر اعلی ٰاور وزیراعظم تک بول پڑتے ہیں ۔کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری (ڈیغاری ) میں پیش آنے والا واقعہ بھی عالمی خبر بن گئی ۔جس کے بعد پوری حکومتی مشینری حرکت میں آگئی ۔ ڈیگاری کوئٹہ سے جنوب مشرق کی جانب تقریبا 40 سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی علاقہ ہے۔ کوئٹہ جیکب آباد قومی شاہرہ (این 65 ) پر مستونگ کے علاقے دشت سے راستہ جاتا ہے ۔ڈیگاری کو کوئٹہ کے شمال مشرق میں کوئٹہ کے تفریحی علاقے ہنہ اوڑک اور اسپین کاریز سے بھی ایک راستہ جاتا ہے ۔ سو عید الاضحی سے تین روز قبل ایک خاتون بانو بی بی اور احسان اللہ سمالانی نامی شخص کو ہجوم کی شکل میں مسلح افرادنے پہاڑوں میں لے جا کر پے در پہ گولیاں مار کر قتل کر دیا ۔اس دوران مختلف افراد اپنے موبائل سے ویڈیوز بھی بناتے رہے ۔ چناں چہ کئی دنوں بعد ویڈیو ز باہر نکلیں۔ ویڈیوز وائرل ہونے سے پہلے کوئٹہ پولیس کے سینئر افسران کے ہاتھ لگ گئی تھی ۔ مگر پولیس حکام غافل رہے،معاملہ سنجیدہ نہ لیا۔ جب ویڈیو عام و خاص تک پھیل گئی اور ویڈیو سوشل میڈیا پر پوری دنیامیں وائرل ہوگئی تب پولیس کو ذمہ داری کا احساس ہوا ۔جس کے بعد 20 اور 21 جولائی کو گرفتاریاں کی گئیں۔
پولیس اور انتظامیہ نے تفتیش شروع کر دی ۔وزیر اعلی ٰبلوچستان نے 21 جولائی کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر کے تفصیلات بتائیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس،جسٹس روزی خان بڑیچ نے بھی نوٹس لے لیا ۔پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا۔ جس میں انسداد دہشت گردی ،قتل اور دیگر دفات شامل کی گئیں۔ خاتون کا تعلق ساتکزئی قبیلے سے ہے ۔ بازگشت تھی کہ قبیلے کے جرگے نے مرد اور عورت کو مار دینے کا فیصلہ دیا تھا ۔جس پر پولیس نے ساتکزئی قبیلے کے سربرا ہ سردار شیر باز سا تکزئی کو گرفتار کر لیا ۔جسے 21 جولائی کو کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ایسا لڑکی کے خاندان کے فیصلے کے تحت ہوا ہے ۔ سردار کی سرکردگی میں کوئی جرگہ نہیں ہوا ہے ۔اس زیل میں لڑکی کی والدہ گل جان کا 23 جولائی کو ویڈیو بیان منظر عام پر آیا ۔جس میں اس نے قرار دیا ہے کہ ان کے رشتہ داروں اور خاندان کے افراد نے آپس میں بیٹھ کر بلوچ رسم و رواج کے تحت قتل کا فیصلہ کیا ہے ۔ مقتولہ کی والدہ نے کسی سردار ،میر یا معتبر کے ساتھ قبائلی جرگہ کے انعقاد کی تردید کر دی ہے ۔ کہا ہے کہ سردار شیرباز ساتکزئی کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ اور سردار شیر باز ساتکزئی و دیگر گرفتار افراد کو رہا کرنے کی اپیل کر دی ہے ۔
اس ویڈیو بیان کے بعد پولیس نے گل جان کو بھی گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا ۔پولیس بانو بی بی کے ماموں زاد بھائی اور دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کر چکی ہے ۔کئی گرفتار افراد کی شناخت اب تک ظاہر نہیں کی گئی ہے ۔ ایف آئی آر پولیس تھانہ ہنہ میں درج کی گئی جس میں خاتون کے بھائی سمیت آٹھ افراد نامزد کیے گئے ۔ایف آئی آر کے مطابق بانو بی بی اور احسان اللہ کو آٹھ معلوم اور 14 سے 15 نامعلوم افراد گاڑیوں میں ڈال کر ساتکزئی قبیلے کے سردار کے پاس لے گئے تھے۔ جس نے قتل کا فیصلہ سنایا ۔پولیس نے یہ مقدمہ سیریس کرائم انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا ہے جو قتل کے واقعات کی تفتیش میں مہارت رکھتا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے قبر کشائی کے حکم پر پولیس میڈیکل لیگو ٹیم اور پولیس سرجن کے ہمراہ ڈیگاری گئی ۔لاشیں قبر وں سے نکال کر ان کا پوسٹ مارٹم کیا ۔ لاشیں خراب ہونے کی وجہ سے واپس فوری دفنادی گئیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو سات گولیاں جبکہ مقتول کو نو گولیاں جسم کے مختلف حصوں میں ماری گئیں، جو ان کی موت کا سبب بنی ۔
مقتولہ کی عمر تقریبا 40 سال بتائی گئی ہے جو شادی شدہ اور پانچ بچوں کی ماں تھی ۔مقتول احسان اللہ بھی شادی شدہ اور بچوں کا باپ تھا ۔کہا جاتا ہے کہ خاتون احسان اللہ کے ساتھ چند ماہ رہی ۔پھر جب آئی تو شوہر جس کا نام نور محمد معلوم ہوا ہے نے اسے قبول کر لیا اور گھر آنےدیا ۔اس کے بعد معاملہ اس وقت بگڑاجب احسان اللہ علاقے واپس آیا ۔جس کی وجہ سے خاتون کے خاندان کے افراد مشتعل ہوئے۔ خاتون کے خاندان کے بعض افراد یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ مقتول انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کرتا رہا طعنے دیتا تھا۔ مقتول احسان اللہ کے خاندان یا قبیلے کا کوئی شخص اب تک سامنے نہیں آیا،جو ان الزامات کا دفاع کرسکیں۔ نہ ان کا کوئی مؤقف پتہ چل سکا ہے۔ بہر حال مقتولہ کے خاندان اور قبیلے نے آخر کار انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے مقتول کا تعاقب شروع کر دیا ۔کہا یہ بھی جاتا ہے کہ مقتول کے خاندان اور قبیلہ کو صورتحال سے بھی آگاہ کیا تھا اس پر مقتول کے قبیلے نے کہا کہ اگر مارنا ہے تو دونوں کو قتل کر دیں، صرف احسان اللہ کو قتل کیا تو اس کا بدلہ لیا جائے گا ۔اس طرح مرد اور عورت کے قتل کا واقعہ پیش آیا ۔
ملزمان نے مقتول کو پکڑ کر اپنی حراست میں رکھا تھا ۔قتل کے وقت مقتولہ بانو بی بی نے قرآن پاک اٹھا رکھا تھا ۔ وائرل ویڈیو میں ایک شخص کہتا ہے کہ ان سے قرآن پاک لے لو ۔مقتولہ نے مارنے والوں سے کہا کہ صرف گولی چلانے کی اجازت ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔بظاہر خاتون کا مطلب یہ تھا کہ سنگ باری یاتشدد کرکے قتل نہ کیا جائے ۔خاتون بڑے آرام سے کچھ دور جا کر پیٹھ مردوں کی طرف کر دیتی ہے ۔یوں ایک شخص نے ان پر پستول سے گولیاں چلائیں۔ اس کے بعد مرد کو بھی پے در پے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ بہرحال حقائق خواہ کچھ بھی ہو انہیں قتل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ یہ ماوارائے عدالت قتل تھا ۔ قانون ہاتھ میں لیا گیا ۔ قانون اور آئین کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔
ڈیگاری کا علاقہ کوئٹہ کے نوا ح میں واقع ہے۔ سنجیدی ، مارگٹ مارواڑ اورہنہ ملحقہ علاقے ہیں۔ان علاقوں میں ساتکزئی ، محمد شہی ، سمالانی ، سارنگزئی ، دمڑ اور یسین زئی قبائل سکونت رکھتے ہیں ۔آبادی قلیل ہے ۔ یہاں کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔کوئلہ کانوں میں مزدوری ،گلہ بانی ،اورزراعت روز گار کے ذرائع ہیں ۔ پسماندہ علاقہ ہے ۔لوگوں کو تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے ۔نیز یہ علاقے سکیورٹی کے لحاظ سے بھی انتہائی حساس ہیں۔ ان علاقوں میں بلوچ عسکریت پسند گروہ سرگرم رہے ہیں ان کے مضبوط ٹھکانے رہے ہیں۔یہاں پر سکیورٹی فورسز پر کئی بڑے حملے ہوچکے ہیں۔ کئی بار کوئلہ مزدوروں کو بھی قتل کیا جاچکا ہے۔ 2012 میں جب خیبر پشتونخوا سے تعلق رکھنے والے سات کان کنوں کو اغوا کرکے قتل کیاگیا تو علاقے کی سکیورٹی ایف سی کے حوالے کی گئی ۔
علاقہ سخت گیرقبائلی روایات کا حامل ہے ۔جہاں غیرت کے نام پر قتل کو برا نہیں سمجھا جاتا ،بلکہ اسے خاندانی وقار او ر غیرت کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ بانو بی بی خود بھی قبائلی سرکردہ شخص کی بیٹی تھی ۔دونوں خاندانوں میں سے کسی نے واقعہ کو رپورٹ نہیں کیا ۔ جس کی وجہ سے معاملہ ویڈیوز کے منظر عام پر آنے تک دبا رہا۔ ویڈیوز نہ بنی ہوتیں تو شاید یہ معاملہ کبھی سامنے ہی نہ آتا ۔ایسا ہی ایک دلسوز واقعہ اگست 2008 میں ضلع نصیر آباد میں پیش آچکا ہے۔ غیرت کے نام پر دو خواتین اور دو مردوں کو اذیت ناک موت دیدی گئی ۔ ۔اہم قبائلی سرداروں کے ملوث ہونے کی باتیں سامنے آئیں ۔مسلہ قومی اور عالمی سطح پر اٹھا تو مرتکب افراد پر ہاتھ ڈالا گیا۔گرفتاریاں ہوئیں۔مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا ۔چار افراد کو پچیس پچیس سال قید کی سزا ہوئی ۔سولہ افراد بری کردیے گئے,ڈیگاری کا واقعہ محض دو انسانوں کا قتل نہیں بلکہ پورے نظام، سماج اور ریاست کے لیے ایک کڑا سوال ہے۔ غیرت کے نام پر ماورائے عدالت فیصلے نہ پہلے اور نہ اب رک رہے ہیں۔ قانون کو قبائلی روایات پر فوقیت نہیں دی جاتی، ریاست اپنی رٹ قائم نہیں کرتی تو ایسے واقعات ہوتے رہے گے۔ قانون صرف ویڈیوز کے بعد نہیں بلکہ بلا تفریق و امتیاز فوری حرکت میں آنا چاہیے ورنہ کل پھر کوئی پہاڑوں کے پیچھے مارا جائے گا اور کسی خبر بھی نہیں ہوگی۔





















