وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر اور مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو وارننگ دی ہے کہ جو لوگ احتجاج کیلئے نکلیں گے دھر لیے جائیں گے۔
بدھ کو ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ اسلام آباد میں جمیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی جس میں اکرم خان درانی، مولانا لطف الرحمان ، سنیٹر کامران مرتضٰی ، سنیٹر مولانا عطاء الرحمان اور مولانا اسعد محمود بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بعدازاں، سماء ٹی وی کے پروگرام ’ ریڈ لائن ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ ملاقات میں کے پی میں ہونے والے سینیٹ الیکشن اور دیگر معاملات پر بات ہوئی کیونکہ ہم ہر معاملےمیں مولانا فضل الرحمان سے رہنمائی لیتے ہیں اور وہ افہام و تفہیم اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خوشحالی اور ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، عدم استحکام روکنے کیلئے ہر اقدام اٹھائیں گے، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کا حق ہے کہ وہ آئیں اور تحریک لیڈ کریں لیکن میرا نہیں خیال کہ برطانوی حکومت ان کو اجازت دے۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جتنے احتجاج کیے وہ پرامن نہیں تھے، یہ کہتے ضرور ہیں کہ پرامن ہوگا مگر پرامن احتجاج کو جانتے نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی والوں کو خود کہا تھا کہ آئیں بیٹھیں، وزیراعظم نے کہا کہ اگرآپ کہیں تو میں اسپیکر چیمبر بھی آجاؤں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی 6 بائی 8 جیل میں رکھنے کی بات درست نہیں ہے، جیل قید کا نام ہے اور جو آدمی قید ہے وہ قید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی والے تشدد کے منصوبے بنائیں گے تو حکومت کے پاس چیک کا اختیار ہے، یہ کیسے ممکن ہے اور قید میں بیٹھا آدمی احتجاجی تحریک کیسے چلا سکتا ہے؟، جن سے اس آدمی کا رابطہ ہوگا تو مشکلات ان کے لیے ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کی احمقانہ بات ہے اور ایسے حالات نہیں ہیں، ترسیلات زر نہ بھجوانے کی تحریک کا جو حشر ہوا سب کے سامنے ہے، کے پی حکومت کے سائے تلے کچھ لوگ جلسہ جلوس کرسکیں گے، باقی کسی بھی جگہ قابل قدر تعداد سامنے نہیں آئے گی اور جو لوگ احتجاج کیلئے نکلیں گے دھر لیے جائیں گے۔






















