مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہاہے کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل تک پاکستان ابراہم معاہدے پر بات نہیں کرے گا، فلسطینیوں کی خودمختار ریاست کے قیام تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر کا کہناتھا کہ اسامہ بن لادن کے بعد سے امریکا کےساتھ قریبی تعاون رہا،2ریاست کے حل کے بغیر کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہے ، 2ریاستی حل کے بغیر پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، ہمیں بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہناتھا کہ 2ریاستی حل کیلئے ابراہم اکارڈ پر سب کو متحد ہونا ہو گا، اس بار پاکستانی وفد کو الزام تراشیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا، غزہ کی پٹی کے ساتھ انٹرنیشنل سمندر اسرائیلی حد نہیں، اگر امریکی صدر جلد بازی کریں گےتو دیر پاحل نہیں نکلے گا، فلسطینیوں کیلئے دیرپا امن کیلئے 2ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔
خرم دستگیر کا کہناتھا کہ اب کشمیر کا مسئلہ بھی سامنے ہے،بھارت کو یہ بھی اب دیکھنا ہو گا، ہندوستان کے ساتھ سیز فائر ہوا،جنگ بندی کا خطرہ موجود ہے، اپنی دفاعی صلاحتوں پر خاموشی سے بہتر کرنا ہے، اس معاملے میں پاکستان نے اپنی صلاحتوں کا مظاہرہ کیا۔
اعزازچوہدری
سابق سیکریٹر ی خارجہ اعزاز چوہدری کا کہناتھا کہ نیتن یاہو اور پارٹی کے لوگ نہیں مانیں گے کہ 2 ریاستی حل نکلے، نیتن یاہو اور اس کی پارٹی کے لوگ کبھی نہیں مانیں گے، یہ نہیں ہو گا کہ کوئی ان کو عرب ممالک میں لیجا کر آباد کرنے پر راضی ہوں، امریکا اسرائیل کی کوشش ہے فلسطینی غزہ سے جا کر عرب ممالک میں آباد ہو جائیں۔



















