آخر کار معصوم بچے محمد مصور کاکڑ کی لاش ہی ملی ۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام تر وسائل کی دستیابی کے باوجود ناکام ثابت ہوئے ہیں۔مصور کاکڑ کا اغوا اور قتل ہرگز پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس نوعیت کی کئی وارداتیں ماضی قریب و بعید میں رونما ہو چکی ہیں۔ ایک وقت میں تاوان کی غرض سے اغوا کے واقعات سہل اور منافع بخش کاروبار بن چکاتھا۔ بہت سی وارداتوں میں شریک ملزمان کے چہرے بھی نامعلوم نہیں تھے۔ تاجر، وکیل اور ڈاکٹر اغوا ہوتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حاضر سروس سیکریٹری تک کو اغوا کیا گیا اور تاوان کی ادائیگی کے بعد چھوڑا گیا۔
معصوم مصور کاکڑ کو 15 نومبر 2024ء گھر سے سکول جاتے ہوئے وین سے اتار کر اغوا کیا گیا۔ یہ واردات شہر کے وسطی علاقے پٹیل باغ میں ہوئی۔ مصور کاکڑ کا والد تاجر ہے جن کی جیولری کی دکانیں کوئٹہ کے علاقے لیاقت بازار میں ہیں۔اغوا کے خلاف اہل خانہ اور تاجروں نے بروقت آواز اٹھائی۔ اگلے دن شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی اور واقعے کے روز ہی زرغون روڈ پر بلوچستان اسمبلی کے قریب دھرنا دیا گیا۔ یہ احتجاج دو ہفتے تک جاری رہا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کیا گیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور کئی سماعتیں ہوئیں۔ پولیس عدالت میں سربمہر رپورٹ پیش کرتی رہی۔ بہرحال لواحقین نے اس کے بعد کوئی احتجاج نہیں کیا۔27جون 2024ء کو مصور کاکڑ کی ہلاکت کی خبر منظرِ عام پر آئی۔ ڈی آئی جی پولیس اعتزاز گورایہ جو سی ٹی ڈی بلوچستان کے سربراہ بھی ہیں نے پولیس حکام اور بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مصور کاکڑ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات سے آگاہ کیا۔
مصور کاکڑ کی لاش 23 جون کو مل گئی تھی تاہم لاش کئی ماہ پرانی ہونے کی وجہ سے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا جس کے نتائج آنے کے بعد اعلان کیاگیا۔مصور کاکڑ کو اغوا کے بعد کوئٹہ میں رکھا گیا۔ بعد ازاں اسے کوئٹہ سے متصل مستونگ کے علاقے دشت منتقل کیا گیا۔ ملزمان کوئٹہ اور دشت میں چار مختلف ٹھکانوں میں مقیم رہے۔ پھر اسے دشت کے قریب اسپلنجی کے پہاڑوں میں لے جایا گیا۔ اس واردات میں عالمی دہشت گرد گروہ کالعدم داعش ملوث تھا۔ رہائی کے بدلے 12 ملین امریکی ڈالر جو تقریباً تین ارب 40 کروڑ روپے بنتے ہیں تاوان طلب کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق مصور کو اغوا کرنے والے ملزمان میں طیب شاہ کا تعلق باجوڑ سے تھا جبکہ دو افغان شہری بھی شامل تھے۔ سکیورٹی فورسز نے اپریل 2025ء کے آخر غالباً 25 اور 26 اپریل کو دشت میں واقع ایک گھر کو محاصرے میں لیا۔ اطلاع تھی کہ مصور کاکڑ کو اس گھر میں رکھا گیا ہے۔ اس مکان سے فورسز کے خلاف مزاحمت ہوئی جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد گولی لگنے سے ہلاک ہوا جبکہ دوسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دونوں کا تعلق کالعدم داعش سے تھا۔
ان میں ایک کا نام عمران رند اور دوسرے کا اللہ بخش تھا۔ عمران رند جس کا فرضی نام نعمان تھا داعش کا مقامی کمانڈر تھا۔اس سے قبل سلمان بادینی اور چھوٹا عمر ،دشت اور کوئٹہ میں داعش کی کارروائیاں سنبھالتے تھے۔ سلمان بادینی کو مئی 2018 میں کوئٹہ کے کلی الماس میں ہلاک کیا گیا جس کے بعد عمران رند نے اس کی جگہ لی۔داعشی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا سراغ یوں ملا کہ رواں سال اپریل میں ہی دشت کے علاقے درخشان میں ایک ناکے پر فورسز نے پولینڈ کے ایک باشندے کو حراست میں لیا۔ یہ شخص داعش سے وابستہ تھا ۔مگر وہاں سے نکلتے ہوئے راستے میں ناکے پر پکڑا گیا۔تفتیش کے دوران اس غیر ملکی نے مختلف ٹھکانوں کی نشاندہی کی جس کے بعد فورسز نے دشت اور مستونگ میں دو ٹھکانوں پر چھاپے مارے ۔بعد میں فورسز نے اسپلنجی میں بھی آپریشن کیے۔ کہا جاتا ہے کہ اسپلنجی کے پہاڑی سلسلے میں کالعدم بلوچ عسکریت پسندوں کے کیمپ بھی موجود ہیں۔ داعش اور کالعدم لشکر جھنگوی کے کیمپ بھی ان پہاڑوں میں موجود رہے ہیں۔
اطلاع ہے کہ مارچ 2025ء میں کالعدم بلوچ گروہوں نے مل کر اسپلنجی میں داعش کے کیمپ پر حملہ کیا جس میں داعش کے متعدد دہشت گرد مارے گئے۔مصور کاکڑ کو سر میں ایک گولی لگی تھی جبکہ سینے میں دو گولیاں لگنے کے شواہد ہیں۔ ان کی موت چند ماہ قبل ہوئی تھی۔ لاش کی جو تصویر سامنے آئی ہے اس میں مصور کاکڑ نے وہی سکول سویٹر پہن رکھا ہے جو اس نے گھر سے اسکول جاتے ہوئے پہن رکھا تھا ۔ اندازہ ہوتا ہے کہ مصور کاکڑ کی موت فروری یا مارچ میں ہی واقع ہوئی ہے۔اب یہ پولیس اور سی ٹی ڈی نے معلوم کرنا ہے کہ آیا مصور کاکڑ مسلح گروہوں کے تصادم کے دوران گولیوں کا نشانہ بنا ہےیا کالعدم داعش نے تاوان کی رقم نہ ملنے پر انتقامی طور پر قتل کیا۔ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ اپریل کے آخر میں مصور کاکڑ کی موت کے بارے میں اطلاع ملی ۔ لیکن لاش کی تلاش میں تقریباً دو ماہ لگ گئے۔ انہوں نے مبہم انداز میں بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف فورسز نے آپریشن کیے جن میں داعش کے کئی دہشت گرد مارے گئے۔ اس دوران دہشت گردوں نے بھاگتے ہوئے مصور کاکڑ کو بھی گولی مار کر قتل کر دیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان ایران اور افغانستان کے موبائل نمبر استعمال کرتے رہے ہیں۔ مصور کاکڑ کی بازیابی کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کام کر رہی تھی جس میں خفیہ ادارے بھی شامل تھے۔ پولیس کے مطابق دو ہزار سے زائد گھروں اور بارہ سو کرائے کے مکانوں کی تلاشی لی گئی اور ایک ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا۔ یہاں تک کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جیسے فیس بک اور واٹس ایپ سے پہلی بار ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ اس سے کیس کی تفتیش میں کچھ اہم سراغ ملے۔بہرحال مصور کاکڑ کا اغوا اور عدم بازیابی مجموعی ناکامی کا کھلا اظہار ہے۔ حکومت، پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے ناکام ہوئے ہیں۔ صوبے کی حکومت امن و امان کے لیے بجٹ میں خطیر رقم مختص کرتی ہے۔
مالی سال 2025-26ء کے بجٹ میں بھی بڑی رقم رکھی گئی ہے۔خود ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ مصور کاکڑ کیس میں نظام کی کمزوریاں بے نقاب ہوئیں ۔ جیسے جعلی دستاویزات، غیر قانونی تارکین وطن، غیر قانونی اسلحہ، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا استعمال اور کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ ہونا۔مصور کاکڑ کا سفاکانہ قتل حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصور کاکڑ کی نماز جنازہ 28 جون کو کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اراکین اسمبلی ، صوبا ئی وزرا ، سیاسی رہنما ، علما اور قبائلی عمائدین نے بھی شرکت کی ۔معصوم مصور کو کوئٹہ کے کاسی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





















