ایران کی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے )سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ منظور کر لیا۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ایران کی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون عارضی طور پر معطل کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت تک مؤثر رہے گا جب تک ایران کی جوہری سرگرمیوں کی سلامتی اور تحفظ کی مکمل ضمانت فراہم نہیں کی جاتی۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ یہ اقدام IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے افسوسناک کردار کے باعث اٹھایا گیا ہے۔گروسی نے اس حقیقت کو جان بوجھ کر چھپایا کہ ایک دہائی پہلے ایجنسی نے ایران سے متعلق تمام پرانے معاملات بند کر دیے تھے۔
The Parliament of Iran has voted for a halt to collaboration with the IAEA until the safety and security of our nuclear activities can be guaranteed.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 27, 2025
This is a direct result of @rafaelmgrossi's regrettable role in obfuscating the fact that the Agency—a full decade ago—already…
سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ رافائل گروسی کے اقدامات نے نہ صرف ایران کے خلاف سیاسی بنیادوں پر قرار داد کو IAEA بورڈ آف گورنرز سے منظور کروانے میں مدد دی، بلکہ ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل اور امریکہ کے غیر قانونی حملوں کو بھی راستہ دیا۔گروسی نے ان حملوں اور IAEA قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کی واضح مذمت بھی نہیں کی۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ IAEA اور اس کے سربراہ موجودہ خراب صورت حال کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔ایرانی تنصیبات کا دورہ کرنے کی ضد کو ایران نے "بے معنی اور ممکنہ طور پر بدنیتی پر مبنی" قرار دیتا ہے۔ہم اپنے قومی مفاد، عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔






















