سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر سیاستدان اپنے معاملات درست نہیں کرتے تو ہم کیا کریں۔
جمعرات کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ نے سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی جس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کر لیے جبکہ حامد خان نے کیس کی سماعت اگست تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی۔
دلائل کے دوران سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آئینی خلاف ورزیوں کو سپریم کورٹ آئینی حل کے ذریعے درست کرتی ہے۔
انہوں نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 66 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت اپنے ٹکٹ جاری کرتی ہے اور اس کے لیے تیسرے فریق کی تصدیق کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے 24 دسمبر 2023 کو غیر آئینی طور پر فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں، جس سے یہ معاملہ پیچیدہ ہوا، تمام امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کی تھی اور متعلقہ دستاویزات عدالت میں جمع کرائی گئیں۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ صرف 39 امیدواروں نے پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کی باقی نے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے تسلیم کیا کہ انٹرا پارٹی الیکشن درست نہیں ہوئے تو اس کے نتائج تو برآمد ہوں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کئی سال سے پارٹی الیکشن کے لیے مہلت دی جا رہی تھی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سیاستدان اپنے معاملات درست نہیں کرتے تو ہم کیا کریں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نواز شریف، بلاول بھٹو یا مولانا فضل الرحمان آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا چاہیں تو کیا عدالت انہیں جماعت سے الیکشن لڑنے پر مجبور کر سکتی ہے؟۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو تسلیم نہ کیا گیا تو 80 مخصوص نشستیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے درمیان تقسیم ہو جائیں گی، جو پاکستانی عوام کے جمہوری حقوق کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے 11 ججوں نے الیکشن کمیشن کی رول 94 کی تشریح کو غلط قرار دیا جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی سے انتخابی نشان اور مخصوص نشستیں چھینی گئیں۔
حامد خان نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ چھٹی کے روز عدالت لگا کر پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا۔
بعدازاں، عدالت نے کیس کی سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کر دی۔





















