امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ ہفتے ایران سے مذاکرات کا عندیہ دیتے ہوئے ممکنہ جوہری معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ظاہر کر دیا۔
نیٹو کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کانفرنس بہت شاندار رہی اور سب رہنماؤں سے ملاقات ہوئی۔
ایران ، اسرائیل سیزفائر
امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے بہادری سے جنگ لڑی تاہم امریکی حملے نے جنگ ختم کی اور کامیاب سیزفائر کرایا ، مجھے نہیں لگتا ایران اور اسرائیل میں دوبارہ جنگ ہوگی جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران کی فردو ایٹمی پلانٹ کو ملیامیٹ کردیا ہے۔
امریکی طاقت کا ایک ناقابلِ یقین ایکشن
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات پر ایک بہت بڑا اور انتہائی درست حملہ کامیابی سے کیا اور یہ حملہ انتہائی کامیاب رہا جبکہ یہ امریکی طاقت کا ایک ناقابلِ یقین ایکشن تھا، ہم نے پیر کی شب ایک تاریخی جنگ بندی معاہدے کے لیے راہ ہموار کی اور ہمیں لگتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں وہ دوبارہ ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے، میں نے شروع سے کہا تھا ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے حملے سے ان کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایران کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا گیا
انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیق کے مطابق ان حملوں نے ایران کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے جبکہ نیویارک ٹائمز نے ایک خبر دی کہ شاید حملہ ہوا لیکن نقصان زیادہ نہیں ہوا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نقصان اتنا شدید تھا کہ نیویارک ٹائمز جیسے جھوٹی خبریں دینے والے ادارے کو بھی گمراہ کن رپورٹ دینی پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نیویارک ٹائمز کو "ناکام اخبار کہتا ہوں اور سی این این اورایم ایس این بی سی جیسے اداروں کو جعلی کہتا ہوں کیونکہ یہ سب لوگ خوفناک ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں رہی۔
دونوں تھک چکے ہیں
ٹرمپ نے ایران ، اسرائیل بارے کہا کہ میں دونوں فریقوں کو جانتا ہوں ، وہ دونوں تھک چکے ہیں، انہوں نے سخت شدید اور پرتشدد انداز میں جنگ لڑی لیکن اب دونوں مطمئن ہیں کہ وہ واپس گھر جا سکتے ہیں۔
صحافی کی سرزنش
ایک صحافی کی جانب سے امریکی انٹیلی جنس کے ابتدائی جائزے کا حوالہ دینے پر، جس میں کہا گیا تھا کہ حملوں سے ایران کے جوہری پروگرام کو صرف چند ہفتوں کے لیے پیچھے دھکیلا گیا ہے، ٹرمپ نے صحافی کی سرزنش کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حملہ کرنے والے پائلٹس سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ حملے " پرفیکٹ " تھے۔
ٹرمپ نے صحافی سے کہا "آپ کو ان پائلٹس پر فخر ہونا چاہیے اور آپ کو ان کی توہین کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔"
امریکہ اور ایران کے حکام کی ملاقات
انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے امریکہ اور ایران کے حکام کے درمیان بات چیت ہوگی جو اسرائیل اور تہران کے درمیان جنگ کے باعث تعطل کا شکار ہوئی تھی۔
ٹرمپ نے کہا ’’ میں آپ کو بتاتا ہوں، ہم اگلے ہفتے ایران کے ساتھ بات کریں گے، ہو سکتا ہے ہم کوئی معاہدہ کریں، لیکن میں نہیں مانتا کہ جوہری معاہدہ ضروری ہے۔‘‘
تنازع دوبارہ شروع ہونے کا امکان
امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل اور ایران دونوں تھک چکے ہیں، لیکن ان کے درمیان تنازع دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔
ٹرمپ نے کہا "میں نے دونوں سے بات کی اور وہ دونوں تھک چکے ہیں، اور کیا یہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے؟، میرا خیال ہے کہ کسی دن یہ ہو سکتا ہے، شاید یہ جلد ہی شروع ہو جائے۔"
ایران جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع نہ کرے
انہوں نے کہا کہ ایران کو بڑا فائدہ حاصل ہوا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا وہ دوبارہ جوہری معاملے میں شامل ہوگا، حملوں کے بعد حاصل کی گئی خفیہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری مقام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جبکہ قطر پر داغے تمام 14 ایرانی میزائل مار گرائے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران سے کہتا ہوں وہ اپنی جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع نہ کرے۔





















