ایران اسرائیل جنگ اگر طوالت اختیار کرتی ہے تو اس کے منفی اثرات سے خطہ محفوظ نہیں رہ سکے گا۔علی الخصوص پاکستان اور افغانستان زیادہ متاثر ہوں گے۔ جنگ کی صورت میں ایران کے عوام عراق سمیت پاکستان اور افغانستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو ایران سے بعض معاملات پرتحفظات ہیں، اس کے باوجود پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کی نہ صرف کھل کر مذمت کی ہے بلکہ ایران کے حقِ دفاع میں برملا بول پڑا ہے ۔ افغانستان بھی ایران سے یکجہتی کا اظہار کر چکا ہے۔پاکستان کی خفگی کی وجہ بلوچ کالعدم گروہ ہیں ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ ان گرہوں کی پناہ گاہیں ایران کے پاکستان سے ملحقہ طویل و سنگلاخ پہاڑی سلسلے ہیں ۔جہاں سے یہ عناصر پاکستانی حدود میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور مذموم مقاصد حاصل کرنے کے بعد دوبارہ سرحد پار کر لیتے ہیں۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی خاندان ایران منتقل ہو چکے ہیں۔ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ ان خاندانوں کے افراد کالعدم گروہوں سے وابستہ ہیں۔ ان میں سخت گیر سوچ کے حامل سیاسی رہنما اور کارکنان کے خاندان بھی شامل ہیں ۔ان میں قابل ذکر بلوچ نیشنل موومنٹ ہے ۔ ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ’جیش العدل‘ یا ماضی کی تنظیم ’جنداللہ اور بلوچ کالعدم گروہوں کی موجودگی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا با عث بنے ہیں ۔ جنوری دو ہزار چوبیس میں ایران نے پاکستانی ضلع پنجگور کے علاقے سبز کوہ پر گولہ باری کی ۔ جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے رد عمل میں پاکستان نے ایرانی علاقے سروان میں میزائل داغے جن میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ ہدف عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تھے ۔ تاہم بلوچ نیشنل موومنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں ان کے ایک رہنما دوستا بلوچ عرف چیئرمین سمیت عام شہری جاں بحق ہوئے ۔یعنی یہ تصدیق ہوئی کہ ایران کے اندر بلوچ کالعدم تنظیموں کے افراد پناہ لے رکھے ہیں۔
بھارتی جاسوس کلبھوشن یادویو کی ایران سے بلوچستان کی حدود میں آنا اور گرفتاری پاکستان کا ایران کے خلاف بلا تردید ثبوت اور دلیل ہے۔ ایران کی سرحدی فورسز ماضی میں بھی کئی مرتبہ پاکستانی حدود کی صریح خلاف ورزی کر چکی ہیں۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع علاقوں پنجگور، واشک، ماشکیل اور مند میں ایرانی فورسز کئی کلومیٹر اندر تک داخل ہو کر شہریوں کو نشانہ بنانے اور گرفتار کرنے کے واقعات میں ملوث رہی ہیں۔ ان واقعات پر پاکستان کی طرف سے تحمل دیکھنے کو ملا ہے ۔ لیکن دو ہزار چوبیس میں جب ایرانی فورسز نے حملہ کیا تو پاکستان نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کر کے سخت پیغام دیا ۔چناں چہ پھر ایران اس نوع کی کسی کارروائی کی جسارت نہیں کرسکا۔ایران ان عملیات کی توجیہہ ’جیش العدل‘ یا ماضی کی تنظیم ’جنداللہ‘ کے خلاف پیش کرتا رہا ہے ۔ حالانکہ پاکستان مخلتف اواقات میں ایران کو مطلوب افراد حوالے کر چکاہے ۔
مالک ریکی کو ایران نے دبئی سے جانے والی پرواز سے اتار کر تحویل میں لیا ۔یہ کاروائی ایران نے اپنی فضائی حدود میں کی ہے ۔بات ایران اسرائیل جنگ کے اثرات کی کرتے ہیں جس سے بلوچستان کے بلوچ علاقے پنجگور، گوادر، چاغی ، تربت، آواران حتیٰ کہ صوبے کا ایک بڑا منطقہ متاثر ہوا ہے ۔ یہ اثرا ت سردست معاشی ہیں ۔ سرحدی اضلاع جیسے پنجگور ، گوادر ، تربت آوران ،چاغی ، خاران ، نوشکی وغیرہ کے عوام روزمرہ ضروریات کے لیے ایرانی مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں ۔ ایرانی ڈیزل، پیٹرول اور دیگر اشیاء کی سرحد پار تجارت یا دوسرے لفظوں میں سمگلنگ پر ان کی معیشت کھڑی ہے ۔ ان کا گذر بسر اسی پر ہے ۔ جنگ کے باعث بے روزگاری کے سایے گہرے ہوتے جارہے ہیں ۔ جبکہ متبادل روزگار نا پید ہے ۔یہ سلسلہ چلتا رہا تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں گے ۔ صوبے کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھیں گی ۔
ماضی میں جب بھی کسی حکومت نے ایرانی پیٹرول یا تیل پر پابندی کی بات کی تو اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کی صفوں سے بھی آواز اٹھائی گئی ۔ یقینا متبادل روزگار ہو تو پابندی بلا جواز نہ ہوگی ۔ مگر بد قسمتی سے ماضی کی حکومتیں روزگار کے متبادل ذرائع پیدا کرنے یا میکنزم بنانے میں یکسر ناکام رہی ہے ۔یہی حال موجودہ حکومت کا بھی ہے۔ اشیا خور و نوش اور دیگر اشیا کی قلت کی بازگشت بلوچستان اسمبلی میں بھی ہوئی ہے ۔ حاضر وقت وزیر اعلیٰ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ ان علاقوں میں اشیا کی قلت کی نوبت آنے نہیں دیا جائے گا ۔ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں پھنسے پاکستانی زائرین اور وہاں زیر تعلیم طلباء کی واپسی کے لیے اچھا انتظام کیا گیا ہے ۔ ہزاروں افراد بہ حفاظت وطن پہنچ چکے ہیں۔ انہیں قافلوں کی صورت میں تفتان اور گوادر سے کوئٹہ اور کراچی اور پھر اپنے آبائی علاقوں کو پہنچایا جارہا ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





















