سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سنیارٹی اور ٹرانسفر کیس کا مختصر حکم نامہ کل جاری کرنے کا عندیہ دیدیا۔
ججزسنیارٹی اور ٹرانسفر کیس میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کے دلائل مکمل ہوگئے۔ عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتا دیا کہ ماضی میں ون یونٹ بننےاور پھر ختم ہونے پر عدالتوں میں ججز کی سابقہ سنیارٹی کو برقرار رکھا گیا۔ عدالت نے کل مختصر حکم نامہ جاری کرنے کا عندیہ دے دیا ۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے دلائل میں موقف اپنایا ون یونٹ کی تشکیل اور تحلیل کی طرح سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کو الگ الگ کرتے وقت بھی ججز کی گزشتہ سروس اور سینیارٹی کو برقرار رکھا گیا۔
جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا ون یونٹ کی تشکیل اور تحلیل پر نئی عدالتیں بنیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کے تبادلہ پر ایسا نہیں ہوا۔ امجد پرویز نے جواب دیا میری دلیل اتنی ہے ماضی میں ہمیشہ ججز کی گزشتہ سروس کو ٹرانسفر پر تسلیم کیا گیا ۔ پرویز مشرف کے سنگین غداری ٹرائل کیلئے اسپیشل کورٹ میں بھی سینئرموسٹ جج کو سربراہ بنایا گیا ۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے پوچھا آرٹیکل 200 کے تحت جج کا تبادلہ مستقل ہوگا یا عارضی ؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا جہاں چیف جسٹس ہائی کورٹ کو اضافی جج کی ضرورت ہو اس کے لئے مدت کا ذکر ہے ۔ ٹرانسفر مستقل ہوتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف کے دلائل شروع کئے ۔ ان کا مؤقف تھا ٹرانسفر ہوکر آنے والے ججز کی سینیارٹی ان کی اصل ہائی کورٹ میں ہی رہے گی ۔۔ نئی ہائی کورٹ میں وہ ایڈہاک جج رہیں گے ۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل کل بھی دلائل جاری رکھیں گے ۔
اٹارنی جنرل نے بتایا انہیں دلائل مکمل کرنے میں پندرہ منٹ لگیں گے۔ جسٹس نعیم اخترافغان نے ریمارکس دیئے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں ججز وکلا کو کہتے رہے جلدی دلائل مکمل کر لیں ۔ وکلا کے طویل دلائل کے سبب کیس تاخیر کا شکار ہوتا رہا ۔ ججز ریٹائر ہوتے رہےاور بینچ کی کمپوزیشن ہی تبدیل ہو گئی ۔






















